انوارالعلوم (جلد 1) — Page 184
انوار العلوم جلد 1 ۱۸۴ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں پر ثابت قدم رہا تو ایسے شخص کو جو ایک با اخلاص مؤمن کا درجہ پا چکا ہے بشارت دو ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک معمولی افسر اگر کسی کو اس کی کامیابی کی بشارت دے تو وہ پھولا نہیں سماتا۔ تو جس کو خدا بشارت دے وہ کیسا خوش قسمت ہے اور کس طرح غمگین ہو سکتا ہے۔ اگر انسان خدا کو غفار وستار اور وعدوں کا پورا کرنے والامان کر پھر بھی غم کھائے تو یہ اس کی بڑی سخت نادانی ہے کیا اسے یقین نہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر کرے گا اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھے گا تو اسے نعم البدل عنایت ہو گا پس مؤمن انسان کو کوئی غم نہیں پہنچتا وہ دکھوں میں خوش اور غموں میں فرحان و شادان رہتا ہے۔ یہ تمام چیزیں جو ہمارے پاس ہیں یہ سب: خدا کی امانتیں ہیں بلکہ ہم خود بھی اس کے ہیں پس اگر وہ کسی وقت مصلحت سے ایک امانت ہم سے واپس لیتا ہے تو ہم کیوں اس پر رنج کریں ۔ امانت کی واپسی پر جو شخص افسوس کرتا واویلا اور شور مچاتا اور چلاتا ہے اس کو کل دنیا پاگل کہتی ہے پس اگر خدا نے ہم سے کوئی امانت لے لی اور ہم شور و غل کریں تو ہمارے پاگل ہونے میں کیا شک ہے اور ایسا کرنا مؤمن کی شان ہے بالکل بعید ہے ۔ دیکھو کہ خدا اپنے بندوں پر کیسا مہربان ہے وہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا جو شخص اس کے کسی نعل پر نالاں ہوتا ہے تو وہ نعوذ باللہ اسے ظالم سمجھتا ہے مگر خد الظالم نہیں۔ ہم اپنے آپ کو ہی دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک نبی ہم میں آیا اور اپنا کام کر کے ہم سے جدا ہو گیا یہ ایک ایسا صدمہ ہے جو دنیا میں سب سے بڑھ کر ہے مگر کیا خدا نے اس پر ظلم کیا کبھی نہیں بلکہ جب اس نے مصلحت وقت یہی دیکھی کہ اسے واپس بلائے تو ساتھ ہی اس نے ہماری تسلی کے لئے قدرت ثانی کا وعدہ کر دیا کہ اس کے جانے کے بعد میں تمہیں اپنی قدرت کا دوسرا ظہور دکھلاؤں گا پس اس طرح اس نے حضرت مسیح موعود کی پیدائش اور وفات دونوں کو مبارک کر کے دکھلا دیا۔ اب میں لیکچر ختم کرتا ہوں اور قرآن شریف کی آیات سے وہ طریق بتا چکا ہوں کہ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔ وَاخِرُ دَعَوْنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ والسلام مرزا محمود احمد