انوارالعلوم (جلد 1) — Page 182
انوار العلوم جلد 1 ۱۸۲ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں شخص ضرور مستوجب سزا ہو گا۔ میں نے شرک کے معاملہ میں بارہا سوچا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی بڑا رحیم ہے کہ اول تو خود ہی ہماری آسائش کے سامان بہم پہنچاتا ہے اور ہر قسم کی نعمتیں ہمیں عنایت کرتا ہے پھر ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے ہمیں اعضاء اور حواس بھی پہلے سے ہی دے رکھے ہیں لیکن اگر کبھی ہمارے منہ سے یہ نکل جاوے کہ خدا کا ہم پر بڑا فضل ہے اور ہم شکر کریں تو وہ اور بھی خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بندے نے بڑا کام کیا آؤ میں اس پر اور بھی احسان کروں مگر غور کر کے دیکھو تو ہم نے کچھ بھی نہیں کیا سب کچھ اس کا دیا ہوا تھا دل جس نے شکر کرنے کا خیال کیا اور زبان جس نے شکر کیا یہ بھی تو اس کی دی ہوئی ہے پھر ہم نے کیا کیا جس کا بدلہ وہ ہمیں دیتا ہے ۔ غرضیکہ اس بات کو سوچ کر مجھے بڑی حیرت آتی ہے کہ خدا کیٹار حیم کریم ہے۔ پھر آگے چل کر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ علاوہ شکر کے تم لوگ میری خاطر اپنی جانوں سے کچھ چھڑاؤ بھی یعنی بعض ایسی چیزیں جو تمہارے لئے جائز بھی ہوں وہ چھوڑ دو تا مجھ سے تعلق اور بھی بڑھے مثلاً اعتکاف کرو کہ اپنی آزادی کو میرے لئے چھوڑ دیا ۔ اسی طرح اور بعض بدیوں سے رکو اور پر ہیز کرو اس کے بعد فرماتا ہے کہ تم لوگ میرے لئے رکوع و سجود بھی کرو یعنی ہر وقت فرمانبرداری کی طرف توجہ لگائے رکھو ۔ اس رکوع و سجود پر مجھے خیال آتا ہے کہ انسان کو بھی خدا نے کیسا دین کا تابع پیدا کیا ہے یہی انسان ہے کہ ایک وقت اگر برائی کی طرف جھکتا ہے تو حد درجہ کی شرارتیں کرنے لگتا ہے اور نیکی کی طرف توجہ کرتا ہے تو تب بھی کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔ میں نے کتے کو دیکھ کر خیال کیا کہ اس میں دو صفتیں ہیں ایک تو بری اور ایک نیک بری صفت تو حرص ہے۔ نیک صفت و فاداری - مگر جب انسان شرارت پر آتا ہے تو کتے کی فرمانبرداری کرتا ہے اور حریص ہو جاتا ہے۔ مگر افسوس ہے اس پر کہ وہ ان کی نیک صفت اختیار نہیں کرتا یعنی اپنے مالک اور آقا کی ذرا بھی وفاداری نہیں کرتا اس صورت میں وہ کتے سے بھی بدرجہا بد تر ہے۔ مگر ساتھ ہی ایسے لوگ بھی ہیں جو کتے سے سبق نہیں لیتے اور فرشتوں سے نصیحت حاصل کرتے ہیں یعنی وہ خدا کے ہر حکم کے آگے فرشتوں کی طرح سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں بلکہ فرشتہ سے بھی بڑھ جاتے ہیں اور نہ صرف سجدہ کرتے ہیں بلکہ رکوع بھی کرتے ہیں۔ پس انسان اگر برائی کی طرف لگتا ہے تو کتے سے بھی بد تر ہو جاتا ہے اور اگر نیکی اختیار کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے غرضیکہ خدا تعالیٰ نے اس پرا جگہ پر اپنے بندوں کو راستہ بتایا ہے کہ تم لوگ فرشتوں کی پیروی کرو اور پھر ان سے بھی بڑھ جاؤ۔