انوارالعلوم (جلد 1) — Page 160
انوار العلوم جلد | 14۰ صادقوں کی روشنی یم کہ اگر آپ کے لئے ایک سونے کا مکان ہو یا آسمان پر چڑھ جائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ مگر صرف آسمان پر چڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ وہاں سے ایک ایسی کتاب بھی لے آئیں جس کو ہم پڑھ سکیں۔ (خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ) ان کو کہہ دے کہ میں کیا ہوں صرف ایک بشر رسول ہوں۔ یعنی بشر رسول سے تو ایسے صاف اور صریح کام نہیں ہوتے جو خلاف سنت بھی ہوں اور خلاف بشریت بھی ہوں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ا ایسا صاف معجزہ دکھا دیتے تو کل کے کل کفار مسلمان ہو جاتے۔ بلکہ کل دنیا کے لوگ آپ پر ایمان لے آتے لیکن چونکہ خدان ا چونکہ خدا تعالیٰ کی سنت یہیں ہے کہ معجزات ایسے صاف نہیں دکھاتا کہ جن سے کل دنیا مان جائے۔ اور ایمان لانا صدق کی بناء پر نہ رہے اور ہر کاذب و صادق کو زبردستی نبی کی طرف جھکا دیا جائے ۔ اس لئے وہ معجزات میں ایسے متشابہات بھی رکھتا ہے جن سے سعید لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے لوگ الٹا اور بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ اور صریح پیشگوئیوں اور محکمات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جس سے نیکوں اور بدوں میں ایک بین فرق ہو جاتا ہے۔ اور دنیا دیکھ لیتی ہے کہ کون سچائی کا دلدادہ ہے اور کون جھوٹ اور فریب کا شیدا۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ باوجود ہزاروں معجزات اور آیات کے بہت سے خبیثوں نے نبی کریم اللہ کی مخالفت کی اور ان کو نہیں مانا۔ اور بجائے محکمات کے متشابہات کی طرف گئے ۔ اگر تعلیم پر ان کی نظر پڑی تو متشابہات پر اور اگر آیات پر انہوں نے غور کیا تو متشابہات کو مد نظر رکھا۔ پس اس وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے اور سچائی کو دیکھ نہ سکے مگر جنہوں نے متشابہات کی پرواہ نہیں کی اور ایمان بالغیب کے مسلم مسئلہ پر عمل کیا وہ ان تمام مشکلات سے بیچ رہے اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے محفوظ رہے۔ انہوں نے اصول کو دیکھا اور فروع کو ان کے مطابق کیا۔ مگر بر خلاف اس کے کفار نے چاہا کہ پہلے چھت تیار کریں اور پھر بنیاد رکھیں گے اور وہ نا کامیاب ہوئے۔ پس اصل شناخت کسی نبی کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ کثرت کی طرف نظر کی جائے اور متشابہات کو نظر انداز کیا جائے ۔ کیونکہ جب تک ایسا نہ کیا جائے کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اور راستی اور حق پسندی بھی یہی چاہتی۔ ہے کہ جو حق ثابت ہو گیا ہے اس کو قبول کیا جائے اور جو سمجھ میں نہیں آتا اس کے لئے انتظار کیا جائے۔ اور جو شخص دس محکمات پیشگوئیوں کو نہیں مانتا اس سے کیا امید ہو سکتی ہے کہ ایک پیشگوئی جو متشابہات سے ہے اگر پوری ہو جائے تو وہ اس کو مان لے گا۔ بلکہ غالب یقین یہی ہے کہ وہ اس سے بھی کوئی بہانہ بنا کر چھٹکارا کر لے گا۔ پس سچا اصول یہی ہے کہ انسان ہر وقت قرآن شریف کی اس آیت کو مد نظر ر کھے کہ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ آيَتَ مُحْكَمتٌ هُنَّ أما أمُّ الْكِتٰبِ وَ