انوارالعلوم (جلد 1) — Page 159
انوار العلوم جلد 1 ۱۵۹ صادقوں کی روشنی كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( ال عمران : ۵۶) بھی صاف ظاہر کرتی ہے کہ قیامت تک کفر اور ارتداد کا سلسلہ جاری رہے گا اور سچے نبیوں کے دشمن ہمیشہ اور ہر جگہ موجود رہیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ کبھی اور کسی نبی کے وقت ایسے کھلے کھلے نشان نہیں دکھائے گئے کہ تمام کی تمام دنیا ایمان لے آئے۔ بلکہ ہر زمانہ میں کچھ محکمات اور کچھ متشابہات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت نوح کے ۔ دشمن آخر وقت تک انکار کرتے رہے ۔ کہ ہم کو کوئی نشان نہیں دکھایا گیا اور آخر ذلت سے ہلاک ہوئے۔ اور حضرت ابراہیم اور اسحق کے دشمنوں کا بھی یہی حال رہا۔ اور پھر حضرت موسی کے مقابلہ میں فرعون کو بھی میں شکایت رہی کہ کوئی نشان آسمانی لاؤ - عصا کا سانپ بنانا تو ایک سحر ہے اور غرق ہوتے وقت اس پر ظاہر ہوا کہ سچا کون تھا اور جھوٹا کون۔ اور جب اس پر اس حد تک بات کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ حضرت موسیٰ سچے تھے تو اس وقت اس کو ایمان نے کوئی فائدہ نہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حق بالکل ظاہر ہو جائے اور کوئی امتیاز عقلمند اور بے عقل میں فرق کرنے کا نہ رہے تو اس وقت کا ایمان کام نہیں آتا۔ پس کسی نبی سے ایسے معجزات کا طلب کرنا جو بالکل صریح ہوں اور متشابہات ان میں قطعا نہ ہوں بالکل بے فائدہ اور سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ جب ایسے صاف نشانات کسی نبی کی سچائی ثابت کرنے کے لئے ظاہر ہوں تو پھر اس پر ایمان لانا بالکل بے فائدہ ہو گا اور ایسے وقت میں ایمان لانے والے کو رضائے الہی کے حاصل کرنے کا موقع نہ ملے گا اور اس کا حشر وہی ہو گا جو فرعون کا ہوا۔ مگر چونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء کسی نبی کے بھیجنے سے عام اصلاح کا ہوتا ہے۔ اور کھوٹے کو کھرے سے پرکھنے کا ہوتا ہے۔ اس لئے ہر ایک نبی کے وقت معجزات ایسے ہی رنگ میں دکھائے جاتے ہیں کہ سعید الفطرت اور عقلمند لوگ ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ مگر کج طبع اور بد باطن انسان اس نور کے حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں اور آخر تک کٹ حجتی کرتے رہتے ہیں اور باوجود سینکڑوں نشانوں کے وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی کوئی نشان نہیں دکھایا گیا اور ایسے لوگوں کا سوائے عذاب الہی کے کوئی جواب نہیں ہوتا۔ جب عذاب آتا ہے تو پھر سمجھتے ہیں کہ ہاں خدا کا وعدہ سچا تھا اور اس کا رسول بر حق مگر اس وقت کا ایمان کسی کام نہیں آتا۔ چنانچہ نبی کریم الی کے زمانہ میں بھی لوگوں نے ایسے ہی اعتراض کئے اور کہا کہ آپ آسمان پر چڑھ کر کتاب لائیں تب آپ کو ہم مان لیں گے ۔ مگر اسکا جواب جو ملا وہ ظاہر ہی ہے کہ أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرْقَيْكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتْباً نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً ۔ (بنی اسرائیل : ۹۴) یعنی کا فرنبی کریم ا کو کہتے ہیں