انوارالعلوم (جلد 1) — Page 161
انوار العلوم جلد 1 141 صادقوں کی روشنی أخَرُ مُتَشْبِهْتُ (ال عمران : (۸) یعنی وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب جس میں نشان ہیں محکمات بھی جو کتاب یعنی قرآن شریف کی جڑ ہیں اور دوسری ایسی باتیں بھی اس میں ہیں جو متشابہات ہیں۔ یعنی بعض باتیں جو اصول کے طور پر بتائی گئی ہیں وہ تو محکمات ؟ ات ہیں۔ اور بعض متشابہات بھی ہوتی ہیں جو بعض کو سمجھ آتی ہیں اور بعض کو نہیں اور ان کا صحیح علم خداتعالیٰ کے پاس ہوتا ہے پس ان پر اعتراض کرنا انہیں لوگون کا کام ہے جو کج طبع ہیں پس ہر ایک نبی کی سچائی کو پرکھنے کے لئے اس کی تمام پیشگوئیوں پر مجموعی نظر ڈالنی چاہیے اور دیکھنا چاہئے کہ کثرت کس طرف ہے اور محکمات بھی ہیں یا تمام متشابہات ہی ہیں۔ اور اگر ثابت ہو کہ محکمات بھی ہیں تو متشابہات کو چھوڑ کر چاہئے کہ سچائی کی راہ کو قبول کیا جائے۔ اور کثرت کو مد نظر رکھ کر قلت کا خیال نہ کیا جائے یعنی جب اکثر پیشگوئیاں محکمات سے ہوں اور تھوڑی سی متشابہات سے تو چاہئے کہ محکمات کا لحاظ کیا جائے اور متشابہات کو خدا کے علم پر چھوڑ دیا جائے۔ ورنہ اگر یہ اصول نہ برتا جائے تو کسی نبی کی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی اور آدم سے لے کر نبی کریم الله تک تمام نبی نعوذ باللہ جھوٹے ٹھرتے ہیں کیونکہ ہر ایک کے ساتھ متشابہات لگے ہوئے ہیں۔ اور ایمان بالغیب کا مسئلہ بھی بالکل اڑ جاتا ہے۔ کیونکہ اگر متشابہات نہ ہوں اور محکمات ہی ہوں تو پھر کسی کا ایمان کام نہیں آئے گا۔ اور ہر ایک شخص فرعون کی طرح نامراد مرے گا۔ ایمان کا ثواب تو تبھی تک ملتا ہے جب تک کہ انسان اپنے نفس کی قربانی کر کے ایک بات محض رضائے الہی کے لئے مان لیتا ہے۔ ورنہ اگر متشابہات کا سلسلہ ہی اٹھ جائے تو ایمان ایمان نہیں رہتا۔ چنانچہ یہودیوں نے جب یہ سوال کیا کہ آرنا الله جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ (النساء : (۱۵۴) یعنی جب انہوں نے کہا کہ ہم کو خدا ظاہر میں دکھا تو ان کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب نے پکڑ لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ یہ سوال کرنا کہ ہم کو ایسی پیشگوئیاں چاہئیں جو متشابہات میں سے نہ ہوں۔ بلکہ صرف محکمات میں سے ہوں ایک گناہ ہے۔ اور ایسے نشانات کا طلب کرنا جن سے حق ایک اور ایک دو کی طرح ظاہر ہو جائے ایک بدی ہے۔ اسی ابناء پر میں پوچھتا ہوں کہ جبکہ حضرت اقدس کی پیشگوئیوں میں بھی بعض متشابہات پائی جاتی ہیں تو ان پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔ آپ کے ہاتھوں پر سینکڑوں نشانات دکھائے گئے جو ایک بین طور سے پورے ہوئے پس اگر چند پیشگوئیاں سمجھ میں نہیں آئیں یا بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے ۔ کہ وہ غلط ہو ئیں تو ان کی وجہ سے ان ہزار ہا پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا جو لاکھوں کی تعداد میں پوری ہوتی ہیں کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔ کیا سچائی کی تڑپ رکھنے والا ایسا کام کر سکتا ہے ۔ حضرت اقدس ایسے