انوارالعلوم (جلد 1) — Page 153
انوار العلوم جلد 1 ۱۵۳ صادقوں کی روشنی تڑپ اور غم اور ہمدردی اور سچ پر لانے کے لئے کوشش کو ملاحظہ کریں گے تو خود بخود ان کے دل تَاللَّهِ لَقَدْ أَثَرَكَ اللهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَطِئِينَ (یوسف : ۹۲) کی آواز آئے گی اور جب وہ شعر پڑھیں گے کہ حُسَيْنَ دَفَاهُ الْقَوْمُ فِي دَشتِ كَرْبَلا وَ كَلَّمَنِي ظُلْمًا حُسَيْنَ آخَرُ ایک حسین وہ تھا جس کو دشمنوں نے کربلا میں قتل کیا اور ایک وہ حسین ہے جس نے مجھ کو ظلم سے مجروح کیا كَمِثْلِكَ مَعَ عِلْمٍ بِحَالِي وَ فِطَنِهِ عَجِبْتُ لَهُ يَبْغِي الْهُدَى ثُمَّ يَأْطُرُ تیرے جیسا آدمی میرے حال سے واقف اور دانا تعجب ہے کہ وہ ہدایت پر اگر پھر راہ راست چھوڑ دے قطَعْتَ وِدَادًا قَدْ غَرَسَنَاهُ فِي الصَّبَا وَ لَيْسَ فُؤَادِي فِي الْوِدَادِ يَقْصُرُ تو نے اس دوستی کو کاٹ دیا جس کا درخت ہم نے بچپن میں لگایا تھا گر میرے دل نے دوستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی وَوَ اللَّهِ إِنْ اجْعَلْ عَلَيْكَ مُسَلِّطاً فَإِنَّ يَدِى عَمَّا يُجَازِيْكَ تَقْصُرُ تو میرا ہاتھ تجھے سزا دینے سے قاصر رہے گا اور قسم ہے خدا کی اگر میں تجھ پر مسلط کیا جاؤں تو ان کا دل یوسف کے بھائیوں سے کچھ کم درد محسوس نہ کرے گا۔ مگر اصل بات تو یہی ہے کہ جس کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت پا سکتا ہے ان کی نسبت بیشک خدا کی طرف سے ایک بشارت ہے اور حضرت اقدس نے بارہا اس کا ذکر بھی کیا ہے مگر نا معلوم کہ وہ کیونکر پوری ہو کیونکہ حضرت اقدس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کو موت کے وقت اطلاع دی جائے گی کہ حق پر نہیں ہیں۔ اور اس بات پر مخالفین کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ فرعون نے مرتے وقت کہا کہ مَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي مَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاعِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (یونس : (۹۱) تو اس کا ثبوت سوائے اس کے کیا ہے کہ خدا کے کلام میں یوں آیا ہے پس اگر کوئی شخص حضرت اقدس پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ پہلے اس بات کو سوچ لے کہ یہ اعتراض خود کلام پاک قرآن شریف پر بھی وارد ہو گا۔ پس اصل بات یہ ہے کہ کلام اللہ کے کئی حصے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو دشمنوں پر حجت قائم کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ اور ایک ایسی ہوتی ہیں جو اپنوں کی اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔ اور تیسری وہ جو ایمان بالغیب کے لئے ہوتی ہیں۔ مثلا بہشت کے متعلق جو بعض وعدے قرآن و احادیث میں کئے گئے ہیں ان پر کوئی مخالف اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس تیسرے حصہ میں ہیں اور اس کی مثالیں ہر ایک قوم اور مذہب کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ پس اگر مولوی صاحب موصوف اپنی وفات کے وقت ایمان لے آئیں تو اس پر دشمنوں