انوارالعلوم (جلد 1) — Page 154
انوار العلوم جلد | ۱۵۴ صادقوں کی روشنی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ وہ اس کو فرعون کا معاملہ سمجھ لیں۔ اور اول تو یہ اعتراض قبل از وقت ہے مولوی صاحب ابھی زندہ ہیں ایمان لانے کا بہت وقت پڑا ہے۔ اس پر اعتراض کرنا ہی فضول ہے ۔ کیا مولوی صاحب فوت ہو گئے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے ۔ ؟ تیسرا اعتراض زلزلہ کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس نے لکھا ہے کہ یہ زلزلہ میرے سامنے آئے گا حالانکہ آپ فوت ہو گئے اور کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ سو یاد رہے کہ حضرت اقدس کو کئی الہامات زلزلوں کے بارے میں آئے ہیں بعض جگہ تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہے کہ زلزلہ آپ کے سامنے آئے گا۔ اور بعض جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد آئے گا۔ سو اس کی یہ وجہ ہے کہ آپ نے کئی زلزلوں کی خبر دی تھی بعض کی نسبت تو آپ نے خبر دی ہے کہ وہ میرے سامنے آئیں گے ۔ چنانچہ الہامات کے بعد بڑے بڑے خوفناک زلزلے آئے جنہوں نے زمین کو ہلا دیا ۔ اور دنیا کانپ گئی اور بہت سے انسان چیخ اٹھے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ چنانچہ سول ملٹری گزٹ نے بھی لکھا کہ نہ معلوم دنیا کو کیا ہونے والا ہے۔ چنانچہ جنوبی امریکہ ، بخارا اور کوئٹہ کے خوفناک زلزلے کچھ ایسے نہیں ہیں کہ نظر انداز کئے جائیں۔ پس جہاں یہ الہام پورے ہوئے ہیں باقیوں کا بھی انتظار کرنا چاہئے اور ایک عظیم الشان زلزلہ کی خبر جو نصرت الحق میں دی گئی ہے اور اس میں حضرت اقدس نے لکھا ہے کہ وہ میرے سامنے آئے گا تو اس کی نسبت یہ الہام بھی درج ہو چکا ہے کہ رب آخِرُ وَقتَ هَذَا یعنی اے میرے خدا یہ زلزلہ جو نظر کے سامنے ہے اس کا وقت کچھ پیچھے ڈال دے اور اس سے پہلے حضرت اقدس نے صاف لکھا ہے کہ "آج زلزلے کے وقت کے لئے توجہ کی گئی کہ وہ کب آئے گا اسی توجہ کی حالت میں زلزلہ کی صورت آنکھوں کے آگے آگئی"۔ پس اس الہام سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس زلزلہ میں تاخیر ہو گئی ہے اور وہ کچھ مدت بعد واقعہ ہو گا اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرت کے بعد ہو گا۔ کیونکہ اس کا نظارہ ایسا خوفناک نظر آیا ہے کہ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اس زلزلہ کو ابھی ٹال دے یعنی میری زندگی میں نہ آئے۔ کیونکہ اگر وہ آپ کی زندگی میں آتا تو پھر اس کا دوسرے وقت پر ٹلنا بے فائدہ تھا۔ اور اس کا خوفناک نظارہ آپ کو دیکھنا پڑتا۔ پھر اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام ہے کہ آخرَ اللهُ إِلَى وَقَت مُسَمَّى یعنی خدا نے تیری دعا سن لی اور اس زلزلہ کو تیری زندگی ا زندگی کے بعد کسی وقت پر وقت پر ٹال دیا ۔ پس اب اس پیشگوئی پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اگر حضرت اقدس کو ایک زلزلہ کا الہام ہو تا تب تو اعتراض کی کچھ گنجائش ہو سکتی تھی کہ وہ نہیں آیا ۔ مگر جب چار پانچ زلزلوں کی طرف اشارہ تھا جو قیامت کا نمونہ ہوں گے مگر