انوارالعلوم (جلد 1) — Page 152
انوار العلوم جلد 1 ۱۵۲ صادقوں کی روشنی ایسا ہوتا چلا آیا ہے اور انہوں نے آئندہ زمانہ کی خبریں بھی دیں ہیں۔ تو اگر حضرت مسیح موعود نے کچھ آئندہ کی خبریں دیں اور بتایا کہ میری نسل میں سے ایک ایسا لڑکا ہو گا جس کی ہیبت اس قدر ہو گی کہ گویا خدا آسمان سے اس کی مدد کے لئے اتر آیا تو کیا ہوا؟ اس سے تو ان کی اور بھی سچائی ثابت ہوگی۔ اور اس وقت کے لوگ اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے۔ اور مزہ اٹھا ئیں گے۔ آج کل کے لوگوں سے جو وعدے ہیں وہ ان پر غور کریں اور ان پر جو شکوک ہیں وہ بیان کریں اور توبہ استغفار ساتھ کرتے رہیں تا انہیں اصل حقیقت معلوم ہو اور خدا اپنے خاص فضل سے ان پر سچائی کھول دے ۔ اور وہ صراط مستقیم دیکھ لیں تاکہ ہلاکت سے بچ جائیں۔ ورنہ جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں یہ بیٹے کی پیشگوئی تو کسی ایسے لڑکے کی نسبت ہے جو آپ کی نسل سے ہو گا اور بڑی شان کا آدمی ہو گا اور خدا کی نصرت اس کے ساتھ ہوگی۔ اور یہ بھی میں ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت اقدس کے الہامات میں ہی اس قسم کے استعارہ نہیں ہیں بلکہ پہلے نبیوں کے کلام میں اور قرآن وحدیث میں بھی ہیں کہ بیٹا کہا جاتا ہے اور مراد نسل میں سے کوئی آدمی ہوتا ہے۔ اب اس کے بعد میں ایک اور چھوٹا سا اعتراض لکھ کر اس کا جواب دیتا ہوں۔ جو کہ اگر چہ بہت فضول ہے لیکن چونکہ بعض طبیعتوں میں خلجان پیدا ہو رہا ہے۔ اس لئے اس پر بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت اقدس تو وفات پاگئے مگر مولوی محمد حسین صاحب نے اب تک تو بہ نہیں کی اور آپ پر ایمان نہیں لائے۔ سو یاد رہے کہ حضرت صاحب نے یہ بات کہیں نہیں لکھی کہ وہ میری زندگی میں ایمان لائیں گے بلکہ اگر کہیں لکھا ہے تو یہ کہ مولوی صاحب مجھ کو مانیں گے ۔ سو مولوی صاحب اب تک خدا کے فضل ۔ سے زندہ ہیں اور تندرست ہیں یہ کون ۔ یہ کون سی بڑی بات ہے کہ وہ اپنی طرز کو بدل دیں جہاں انہوں نے مہدی کے عقائد باطلہ کا رد کر دیا ہے اور گورنمنٹ کو اطمینان دلایا ہے کہ ایسا کوئی مہدی یا مسیح نہیں آئے گا جو خون کی ندیاں بہائے اور مولویوں کے گھروں کو لوٹ کے مال سے بھرے بلکہ وہ دلائل قاطع سے دنیا میں تبدیلی پیدا کرے گا۔ تو کیا تعجب ہے کہ وہ کچھ تھوڑا سا فرق جو ہم میں اور ان میں رہ گیا ہے اس کو بھی دور کر دیں۔ خدا کے ہاتھ میں ہر ایک کے دل ہیں اور وہ ہر ایک کے ارادہ پر متصرف ہے ۔ جب وہ اپنی زندگی پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ انہوں نے اپنے بچپن کے رفیق اور جوانی کے غمگسار اور ادھیڑ عمر کے ہادی سے اپنی گذشتہ عمر میں کیا کیا سلوک کئے ہیں اور باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنے پورے زور سے اس کے سلسلہ کو تباہ کرنا چاہا مگر خدا نے اس کو ہر میدان اور ہر جگہ میں فتح ہی دی اور پھر اپنے لئے اس کی