انوارالعلوم (جلد 1) — Page 151
انوار العلوم جلد | ۱۵۱ صادقوں کی روشنی پوتے پر کیوں لگاتے ۔ سمجھتے کہ آئندہ بیٹا ہو گا اور وہ الہام پورا ہو جائے گا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ وہ الہامات کسی آئندہ نسل کے لڑکے کی نسبت تھے ۔ خواہ پوتا ہو یا پڑپوتا ہو یا کچھ مدت بعد ہو ۔ اب بعض لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایک شخص جس کے چار لڑکے موجود ہوں کہہ سکتا ہے کہ میرے ایک لڑکا ہو گا۔ اور چونکہ اسکے اولاد موجود ہے اس لئے اس کے کوئی نہ کوئی تو بچہ ہو گا ہی پس کیا ہم اس طرح اس کو نبی مان لیں۔ اس لئے یہ بات بھی یاد رہے کہ اول تو ہم اس کی دیگر نشانیوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس کی نبوت پر گواہی دیتی ہیں یا نہیں اگر واقعی اس کے ساتھ ایسے نشانات ہیں۔ جن سے ایک شخص نبی قرار دیا جا سکتا ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ نبی ہے۔ پیشگوئیاں بعض بڑے جلال کی ہوتی ہیں۔ بعض معمولی درجہ کی ہوتی ہیں اور ذراذرا سے واقعات کی بعض اوقات نبی کو خبر دی جاتی ہے تو اس پر اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرے یہ کہ حضرت اقدس نے صرف یہ پیشگوئی نہیں کی کہ میرے ایک بیٹا ہو گا بلکہ اس کے ساتھ شرائط رکھے ہیں اور وہ یہ کہ وہ حلیم ہو گا نیک فطرت اور پاک ہو گا۔ اس زمانہ کے لوگوں میں سے ایک خاص امتیاز رکھتا ہو گا۔ اور یحیبی نبی کی خصلتوں پر ہو گا۔ اور سب سے بڑی شرط یہ کہ وہ اس جلال کے ساتھ آئے گا کہ گویا اس کے زمانہ میں خدا خود زمین پر اتر آئے گا۔ پس اگر کوئی شخص اس قسم کی پیشگوئی کرے اور وہ اپنے وقت پر پوری بھی ہو جائے تو کیا شک ہے کہ وہ سچا ہے اور اسکے الہام رحمانی ہیں۔ پس معترضین کو چاہئے کہ بجائے ان پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے کے ان پیشگوئیوں کو دیکھیں جو اس خاص زمانہ کے لئے ہیں اور جو سینکڑوں کی تعداد میں پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اگر آئندہ ہونے والی پیشگوئیوں کو نظر اعتراض سے دیکھا گیا تو کوئی نبی سچا ثابت نہ ہو سکے گا مثلاً حضرت موسی نے خبر دی تھی کہ میری قوم شام کی وارث ہو گی اگر ان کے فوت ہونے سے انکی قوم بگڑ جاتی اور ان کو کافرو دجال ٹھہراتی تو کس قدر مشکل پڑتی۔ یا جب حضرت داؤد سے وعدے کئے گئے تھے اور وہ حضرت مسیح کے وقت میں پورے ہوئے تو کیا درمیانی زمانہ کے لوگوں کا حق نہ تھا کہ وہ اعتراض کرتے کہ فلاں فلاں وعدہ پورا نہیں ہوا یا حضرت عیسی نے جب اپنے حواریوں کو تختوں کے وعدے دیئے تھے اور اپنے لئے بادشاہی کی خبر دی تھی تو اس وقت اگر وہ لوگ انکار کر بیٹھتے کہ خود تو سولی پر لٹکایا گیا معلوم نہیں ہمارا کیا حال ہو گا تو کیا ان کے لئے بہتر ہوتا؟ یا ہمارے نبی کریم ا نے ریل کی سواری کی خبر دی تھی جو آج کل آکر پوری ہوئی تو کیا بیچ کی بارہ صدیوں کے لوگ دین اسلام کو ترک کر دیتے اور کفر اختیار کر لیتے کہ وہ نئی سواری کا وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ پس جب سب نبیوں سے