انوارالعلوم (جلد 1) — Page 75
انوار العلوم جلد 1 محبت الهی اسلام کو سچا قرار دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہ دکھایا جاوے کہ اس مذہب میں کفارہ کا عقیدہ باطل سمجھا جاتا ہے اور اس کے لئے کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں صرف اتنا لکھنا کافی ہے کہ قرآن شریف میں جو کہ مسلمانوں کی پاک کتاب ہے اور جس پر ایمان لانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے اور جس سے کسی مسئلہ کی نسبت بھی باوجود اس علم کے کہ وہ قرآن شریف میں ہے یہ کہنا کہ ہم اس کو نہیں مانتے کفر ہے۔ اس کے متعلق صاف طور سے یہ حکم ہے کہ لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى (بنی اسرائیل : ۱۷) یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کوئی گناہ کرے اور دوسرا اس کو اپنے ذمہ لے لے اور در حقیقت ایسا نہ ہو تو لوگ خدا کا بھی انکار کر بیٹھیں اور ان کو سخت ابتلا پیش آئیں کیونکہ اس طرح مذہب کھیل بن جاتا ہے اور انصاف میں فرق آتا ہے پس اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو ناجائز ٹھہرایا ہے اور اس بد نما دھبہ سے اسلام کا چہرہ بالکل پاک و صاف ہے ۔ اب خدا کے رحمان ہونے کا سوال ہے کہ آیا خدا رحمان ہے یا نہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ صفت رحمانیت کا بہت سے مذاہب انکار کرتے ہیں مثلاً عیسائی، ہنود ، آریہ وغیرہ اور ان کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ جو کچھ عطا کرتا ہے وہ صرف ہمارے اعمال کے بدلہ میں ہوتا ہے اور کوئی گناہ بخشا نہیں جاتا جب تک کہ اس کی سزا نہ مل جائے اور اس لئے عیسائیوں کو کفارہ کا مسئلہ ایجاد کرنا پڑا ہے یا یہ کہو کہ کفارہ کی تصدیق کے لئے خدا کی رحمانیت کا اقرار کیا گیا ہے اور ہنود آریہ اور بدھ مذہب وغیرہ کو خدا کی رحمانیت سے انکار کر کے تناسخ کا بعید از عقل عقیدہ ماننا پڑا ہے کیونکہ ان کو یہ مشکلات پیش آئی ہیں کہ چونکہ انسان ضعیف ہے اس لئے وہ گناہوں میں دھنسا رہتا ہے اور اگر اس کی سزا میں اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو پھر تمام لوگ روزخ میں ڈال دیئے جائیں گے اور اس طرح نجات نا ممکن ہو جائے گی پس انہوں نے سوچ کر یہ تناسخ کا مسئلہ نکالا کہ اس دنیا میں ہی بار بارا سے گناہوں کی سزا ملتی ہے اور ہر ایک گناہ یا ہر ایک نیکی کی وجہ سے انسان بری یا اچھی جونوں میں ہمیشہ جنم لیتا رہتا ہے مگر اس عقیدہ کو ہم غلط ثابت کر چکے ہیں اور یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اسلام نے صفت رحمانیت کی تائید میں بہت زور دیا ہے اور بر خلاف دوسرے مذاہب کے اس صفت کو خدا کے لئے ضروری ٹھہرایا ہے بلکہ قرآن شریف کے شروع ہی میں بشمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں انسان کی زندگی کے لئے یہ صفت لازمی اور ضروری ہے اور بغیر اس کے انسان کی زندگی محال بلکہ ناممکن ہے کیونکہ خدا کی صفت رحمانیت وہ ہے جس کی وجہ سے خدا بغیر کسی کام کے انسان یا دوسری مخلوقات پر رحم کرتا ہے