انوارالعلوم (جلد 1) — Page 74
انوار العلوم جلد 1 م محبت الهی کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان جب سے پیدا ہوتا ہے اس کو توحید کا سبق دیا جاتا ہے ایک بچے کے پیدا ہوتے ساتھ ہی اس کے کان میں اذان کہی جاتی ہے جس میں کہ صاف طور سے ہے اَشْهَدُ انْ ) لَّا إِلَهَ الا اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے خدا کے اور کوئی معبود نہیں او را معبود نہیں اور اس طرح گویا کہ بچہ کے کان میں اس وقت جبکہ وہ ابھی دنیا میں داخل ہی ہوا ہوتا ہے توحید الہی کا کلمہ پھونکا جاتا ہے اور جس طرح جسمانی ترقیات کرنے کے لئے وہ پہلا قدم رکھتا ہے اسی طرح اس کو روحانی ترقیات کی طرف بھی بلایا جاتا ہے اور اس کے کانوں کو ان محبت کے الفاظ سننے کا مشتاق بنایا جاتا ہے جن کا سننا اس کی آئندہ روحانی ترقی کے کے لئے لازمی امر ہوتا ہے پھر ایک مسلمان کو دن میں کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا پڑتا ہے ایک نماز میں ہی بیسیوں دفعہ اللہ کا نام لینا پڑتا ہے جو کہ شرک کا قاتل ہے اور نمازیں دن میں پانچ دفعہ پڑھنی پڑتی ہیں اور پھر ہر ایک نماز کے وقت اذان اور اقامت کہی جاتی ہیں جو کہ خود توحید کی تعلیم دینے والی ہیں پھر ہر شادی اور غمی کے موقع پر اور تعجب و حیرت کے موقعہ پر ہمارے لئے ایسے الفاظ مقرر کئے گئے ہیں جن سے کہ توحید کا مفہوم خوب اچھی طرح سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ خوشی کے وقت الْحَمدُ لِلہ کا کلمہ زبان پر لانا جس کے معنی ہیں کہ سب تعریف ہے واسطے اللہ کے اور اس طرح غم کے موقعہ پر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقره: ۱۵۷) کا کہنا جس کے معنے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے ہی ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹیں گے پھر تعجب و حیرت کے موقعہ پر سبحن اللہ کہنا یعنی پاک ہے اللہ پس ہمارے ہر کام میں اٹھتے بیٹھے توحید کا ذکر ہوتا ہے۔ پھر جب ایک شخص اپنا پہلا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے لگتا ہے اس وقت بھی اس سے یہی کلمہ کہلوایا جاتا ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا الله پس ان باتوں پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام ہی اس واحد خدا کی طرف سے ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے تب ہی تو اس میں توحید کا اس قدر لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب نے توحید کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوئی وسائل اختیار نہیں کئے مگر اسلام نے کئے ہیں اور اللہ کا لفظ جو کہ بذات خود شرک کو رد کرنے والا ہے اسلام نے ہی استعمال کیا ہے اور سوائے عربی کے اور کسی زبان یا مذہب میں اس کا ہم معنی لفظ نہیں پایا جاتا اب چونکہ ہم اپنے اصل مدعا کو ثابت کر چکے ہیں اس لئے دوسری بات کو لیتے ہیں یعنی کفارہ کی نسبت اسلام نے ہم کو کیا بتایا ہے ۔ یہ بات پیچھے لکھی جا چکی ہے کہ کفارہ پر ہی عیسائیت کی عمارت کی بنیاد ہے اور اس مسئلہ کے متعلق ہم کافی طور سے لکھ چکے ہیں کہ یہ کسی بچے مذہب کا عقیدہ نہیں ہو سکتا اور چونکہ ہم نے