انوارالعلوم (جلد 18) — Page 125
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۲۵ اسلام کا اقتصادی نظام صلى الله دشمن نہیں بلکہ روس سے مجھے دلی ہمدردی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ قوم جو سینکڑوں سال ظلموں کا شکار رہی ہے ترقی کرے اور اس کے دن پھر یں ۔ ہاں میں یا اور کوئی حریت پسند یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک غلط فلسفہ کو بعض قوموں کی ترقی اور دوسروں کے تنزل کا موجب بنایا جائے ۔ پس اسلام اور رسول کریم ﷺ کی بیان فرمودہ ہدایات کو اگر دنیا کا کوئی نظام اپنالے اور اپنا نظام اسلامی رنگ میں ڈھال لے تو اُس کی باتیں ہمارے سر آنکھوں پر ۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو مذہبی لوگ اِس بات کے پابند ہیں کہ وہ اُس نظام کو قبول نہ کریں کیونکہ بے شک روٹی کی تکلیف بھی بڑی تکلیف ہے مگر مذہب ایسی چیز ہے جسے انسان کسی حالت میں بھی قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا ۔ میں نے اس مضمون کے بیان کرنے میں بہت کچھ اختصار کر دیا ہے اور کئی باتیں چھوڑ دی ہیں لیکن پھر بھی میں نے لمبا وقت لے لیا ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ اسلامی اقتصادیات اور کمیونزم کے اثرات کے متعلق میں نے جن امور پر روشنی ڈالی ہے دوست اُن پر غور کریں گے اور محض سنی سنائی باتوں کے پیچھے نہیں چلیں گے کیونکہ ذہنی ارتقاء کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ جس بات کو بھی اختیار کیا جائے اُس کے تمام پہلوؤں پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر لیا جائے تا کہ انسان جس راستہ کو بھی اختیار کرے سوچ سمجھ کر کرے اور جس نظام کو بھی قبول کرے کھلی آنکھوں کے ساتھ کرے ۔ یہی وہ طریق ہے جس پر عمل کرنے سے سچائی ظاہر ہو سکتی فتنہ و فساد کا سد باب ہو سکتا ہے ۔ ہر ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم فرمائے اور اپنی ہدایت کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو بھی اُس راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو آپ کے لئے بھی مفید ہو اور آپ کی اولادوں کے لئے بھی مفید ہو۔ آپ کے دین کے لئے بھی مفید ہو اور آپ کی دنیا کے لئے بھی مفید ہو۔ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ( مطبوعہ فیض اللہ پرنٹنگ پریس قادیان ۱۹۴۵ء) ا الزخرف : ٨٦ ۲ آل عمران: ۲۷ البقرة: ٢٠٦ النساء : ۵۹