انوارالعلوم (جلد 18) — Page 124
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۲۴ اسلام کا اقتصادی نظام کرتا ہوں کہ یہ دجال بھی ہے۔ اتنے میں وہ اثر دہا میری چار پائی کے قریب پہنچ گیا اور میں نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگنی شروع کر دی۔ اسی دوران میں اُن احمدیوں سے جنہوں نے مجھے مقابلہ کرنے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ جب رسول کریم ﷺ صلى الله فرما چکے ہیں کہ یا جوج اور ماجوج کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت اقت و نہیں کر سکے گی میں کہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ لا یدان لَا يَدَانِ لَا حَدٍ بِقِتَالِهِمْ کی صلى الله ۔ کے پاس کوئی ایسا ہاتھ نہیں ہوگا جس سے وہ اُن کا مقابلہ کر سکے مگر میں نے تو اپنے ہاتھ مقابلہ کے لئے اُس کی طرف نہیں بڑھائے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ خدا کی طرف اُٹھا دیئے ہیں اور خدا کی طرف ہاتھ اُٹھا کر فتح پانے کے امکان کو رسول کریم ﷺ نے رو نہیں فرمایا۔ غرض میں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے خدا ! مجھ میں تو طاقت نہیں کہ میں اس فتنہ کا مقابلہ کر سکوں لیکن تجھ میں سب طاقت اور قدرت ہے میں تجھ سے التجاء کرتا ہوں کہ تو اس فتنہ کو دور فرما دے۔ جب میں نے یہ دعا کی تو میں نے دیکھا کہ آسمان سے اُس اژدہا کی حالت میں تغیر پیدا ہونے لگا جیسے پہاڑی کیڑے پر نمک گرانے سے ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اُس اثر رہا کے جوش میں کمی آنی شروع ہو گئی اور آہستہ آہستہ اُس کی تیزی بالکل کم ہوگئی ۔ چنانچہ پہلے تو وہ میری چار پائی کے نیچے گھسا۔ پھر اُس کے جوش میں کمی آنی شروع ہو گئی ۔ پھر وہ خاموشی سے لیٹ گیا اور پھر میں نے دیکھا کے وہ ایک ایسی چیز بن گیا ہے ۔ جیسے جیلی ہوتی ہے اور بالآخر وہ اثر دہا پانی ہو کر ۔ بہہ گیا اور میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو ! دعا کا کیسا اثر ہوا۔ بے شک میرے اندر طاقت نہیں تھی کہ میں اُس کا مقابلہ کر سکتا مگر میرے خدا میں تو طاقت تھی کہ وہ اس خطرہ کو دور کر دیتا ۔ ایک قابل ذکر امر به امر یاد رکھا چاہیے کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور دشمن سے دشمن انسان کی بدخواہی کا خیال بھی ہمارے دل کے کسی گوشہ میں نہیں آتا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں اخلاق کی فتح ہو، روحانیت کی ترقی ہو، خدا اور اُس کے رسول کی حکومت قائم ہو۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو بھی نظام جاری ہو خواہ وہ اقتصادی ہو یا سیاسی ، تمدنی ہو یا معاشرتی بہر حال خدا اور اُس کے رسول کا خانہ خالی نہ رہے اور دنیا کو اُن کے احکام کی اتباع سے نہ روکا جائے ۔ پس ہم روس یا کمیونزم کے