انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 14

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۴ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ء) انہوں نے الم ذلك الْكِتَبُ لا دَيْبَ فِيهِ پڑھ کر سنانا شروع کر دیا ۔ حضرت عمر نے کہا آپ اچھے شاعر ہیں ! انہوں نے کہا اے خلیفۃ الرسول! کیا قرآن کے ہوتے ہوئے کسی شعر کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ اس کے مقابلے میں تو دنیا کی ساری شاعری ختم ہوگئی ۔ عرب کا ایک دہر یہ شاعر تھا بادشاہ بھی دہر یہ تھا ۔ اُس نے کہا کہ تمہاری ہمیشہ مسلمانوں سے بحث ہوتی رہتی ہے تم کیوں کوئی ایسی آیت نہیں لکھ دیتے جو مسلمانوں کے قرآن کے مقابلہ میں پیش کر دیں ۔ شاعر نے کہا ہم لوگ کھانے پینے کے محتاج ہیں لوگوں کی تعریف کرتے ہیں اگر آپ کھانے پینے کا سامان کر دیں تو پھر لکھوں ۔ بادشاہ نے کہا کیا چاہئے؟ اُس نے کہا ایک باغ ہو ، لونڈیاں ہوں ، ہر قسم کا سامان موجود ہو اور چھ مہینے کی مہلت دی جائے ۔ چھ مہینے بادشاہ اس خوشی میں بیٹھا رہا کہ اب مسلمانوں کے مقابلہ کی سورۃ تیار ہو جائے گی ۔ جب چھ مہینے گزر گئے ۔ پوچھا تیار ہوگئی ؟ کہنے لگا نہیں ۔ بادشاہ کو سخت غصہ آیا کہ لاکھوں روپیہ اس نے کھا لیا پھر کہتا ہے کہ نہیں تیار ہوئی ۔ وہ کہنے لگا اے بادشاہ! میں نے اپنی کوشش میں کمی نہیں کی ۔ اس بات کا ثبوت آپ اندر جا کر دیکھ سکتے ہیں ۔ بادشاہ نے دیکھا کہ کاغذوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے ۔ وہ کہنے لگا قرآن کی مثال جب میں لکھنے لگتا تھا تو میری قلم رک جاتی تھی ۔ مجھے تو ہر قدم پر شرمندگی ر ذلت اٹھانی پڑی ہے۔ اورز تو قرآن ن اتنی اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے کہ تمام انسانی ضرورتوں کا علاج اور ہر قسم کی ہدایات اس میں موجود ہیں ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن ایسی نعمت بنائی ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا بیان ہے اِنا أَعْطَيْتُكَ الْكَوْثَرَ ہم نے تجھے ہر چیز کی کثرت دی ہے ۔ ہم بچے تھے تو ایک قصہ پڑھا کرتے تھے کہ عمر عیار کے پاس ایک زنبیل تھی جس میں سب نار کے پاس ایک زنبیل تھی جس میں ۔ کچھ نکل آتا تھا ۔ کھانا ہوتا تو اس میں سے اعلیٰ قسم کے کھانے نکل آتے ۔ مقابلہ کے لئے لشکر ، ہاتھی ، گھوڑے سب کچھ نکل آتا ۔ وہ تو ایک کہانی تھی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم ایسی زنبیل رسول کریم ﷺ کو دی گئی کہ دنیا کی کوئی حاجت ، کوئی سوال عقلی اور نقلی ایسا نہیں جس کا صلى الله کامل جواب اس میں موجود نہ ہو ۔ اچھی باتوں کی تعریف ، بُری باتوں کا رڈ ، عورت اور مرد کے تعلقات ، صلح اور جنگ کے