انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 13

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۳ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ء) ۔ صلى الله کہ گنی نہ جاسکیں گی ۔ یہ غریب اور کنگال لوگ اتنے مالدار ہو جائیں گے کہ ان کے مال کا کوئی حساب نہ ہو سکے گا ۔ وہ بات کس رنگ میں پوری ہوئی ۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم عدس ہزار ارقدّ قد وسیوں سمیت مکہ میں داخل ۔ ہوئے ہو۔ ۔ ابوسفیان نے دُور سے لشکر دیکھا اور دیکھ کر کہا کہ یہ کونسا لشکر ہے؟ اُس کے ساتھیوں نے کہا کہ فلاں قبیلہ کا ہے اُس نے کہا کہ نہیں ان کے پاس اس قدر لشکر کہاں ۔ ں۔ اس کے ساتھیوں نے تمام بڑے بڑ۔ بڑے قبائل کا نام لیا۔ اُس نے کہا کسی کے پاس بھی اتنا لشکر نہیں ۔ پھر انہوں نے کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں گے ۔ ابوسفیان نے جواب دیا میں ابھی اُن کو مدینہ چھوڑ کر آیا ہوں ۔ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیسے ہو سکتے ہیں ہے تو آپ کے پاس اتنا بڑا لشکر تھا کہ عرب کی کسی قوم کے پاس اتنا بڑا لشکر نہیں تھا۔ ایک وہ وقت تھا کہ آپ ایک دوست کے ساتھ مکہ سے تن تنہا نکلنے کیلئے تیار ہوئے اُس وقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تجھے غریب و کنگال کہتے ہیں ہر چیز کی تجھے اتنی کثرت ملے گی کہ اس کا شمار نہ ہوگا۔ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الكوثر ۔ ہم نے تجھے کثرت دی اور برکت دی ، اعلیٰ سے اعلیٰ چیزیں عطا کیں ، خیر کثیر میں قرآن کریم بھی شامل ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی سب کتا بیں ہیچ ہیں ۔ ہزاروں لاکھوں کتابیں دنیا میں تصنیف کی گئی ہیں ۔ ہندوستان اور بیسیوں ملکوں میں کتب موجود ہیں ۔ ہندوستان ایک غریب ملک ہے اور پنجاب ایک غریب صوبہ ہے مگر صرف اسی کے کتب خانوں میں لاکھوں کتابیں موجود ہیں ۔ اسی طرح دنیا میں ہزاروں لائبریریاں ہیں اور ان میں لاکھوں کتا بیں موجود ہیں اور اس سے پہلے کروڑوں کتابیں لکھی گئیں اور تباہ ہو گئیں ۔ بعض کتابیں ایسی ہیں کہ اُن کی سو سو جلدیں ہیں مگر ان سب کتابوں کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چھوٹی سی کتاب ملی جسے لوگ حفظ بھی کر لیتے ہیں مگر اس کے نور اور اس کے عرفان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اس کا ایک ایک لفظ اپنے اندر وسیع معانی و مفہوم رکھتا ہے۔ اس کی ایک آیت کے مقابلہ میں بڑی سے بڑی کتاب بیچ ہے۔ زبان اتنی شیریں ہے کہ بڑے سے بڑا ماہر اس کو سُن کر دنگ رہ جاتا ہے۔ عرب میں سات بڑے شاعر ہوئے جن کے قصیدے سونے کے حروف سے لکھ کر خانہ کعبہ کے دروازوں پر لٹکائے گئے ۔ اُن میں سے ایک شاعر لبید مسلمان ہو گئے ۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ انہیں بلایا اور کہا کوئی اچھا سا شعر سنا ئیں ۔