انوارالعلوم (جلد 17) — Page 15
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۵ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ء) احکام ، شادی بیاہ کے احکام ، تجارت اور اقتصاد کے احکام ، لین دین کے معاملات ،غرض کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کے متعلق سوال کیا جائے اور اس کا جواب اِس میں موجود نہ ہو ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی چیز ملی کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی ۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا تجربہ کیا ہے میں کہتا ہوں کہ کوئی شخص ایسی بات پیش کرے جس کا جواب قرآن کریم میں موجود نہ ہو مگر آج تک کوئی ایسی بات پیش نہیں کر سکا۔ ایک دفعہ کوئی غیر احمدی مولوی آیا اور کہنے لگا مرزا صاحب کی سچائی قرآن کی آیت سے بتائیں ۔ میں نے کہا مرزا صاحب کی سچائی ہر آیت سے ثابت ہوسکتی ہے ۔ وہ کہنے لگا اچھا اس آیت سے ثابت کریں ۔ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ يمومنین کے میں نے کہا یہ آیت ہمیشہ کیلئے ہے یا صرف اس زمانہ کیلئے؟ کہنے لگے ہمیشہ کے لئے۔ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ قرآن کی موجودگی میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو منہ سے تو کہیں گے کہ ہم قرآن پر یقین رکھتے ہیں مگر وہ مسلمان نہیں ہوں گے ۔ اگر اُمتِ محمدیہ میں سب نیک لوگ ہی پیدا ہوتے تو پھر نبی کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن اگر اُمتِ محمد یہ نے بگڑ جانا تھا تو اُن کے لئے خدا تعالیٰ کے مامور کی یقیناً ضرورت تھی۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہی بتاتا ہے کہ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو منافق ہوں گے جو منہ سے تو کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں مگر دل سے نہیں ہوں گے۔ تو ضروری ہے کہ کوئی ایسا شخص ہو جو ان کو حقیقت میں محمد رسول اللہ ﷺ کی اُمت بنائے ۔ تو بعض دفعہ ایسا خدا ئی تصرف ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے منہ سے بھی تائید کرا دیتا ہے۔ دو صلى ال ایک دفعہ ایک پادری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا۔ اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ عربی زبان مختصر ہے کہ انگریزی ۔ آپ نے فرمایا اچھا ” میرا پانی“ اس کی انگریزی کیا ہے؟ کہنے لگا ” مائی واٹر (MY WATER) حضرت صاحب نے فرمایا عربی میں صرف ”مائی“ کا لفظ کہنا کافی ہے۔ اِس پر وہ شرمندہ ہو گیا ۔ تو یہ خدائی تصرف تھا کہ خدا نے آپ کے منہ سے ایسا ہی لفظ نکلوا دیا جو عربی میں اپنے اندر اختصار رکھتا تھا۔