انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 12

انوار العلوم جلد ۱۷ الم مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ء) ہیں حضرت عمرہ کا شبہ بہت بڑھ گیا ۔ پوچھا کہ دروازہ کیوں بند کیا تھا ؟ کہنے لگے یونہی ۔ حضرت عمر نے کہا تمہاری آوازیں آ رہی تھیں اور آگے بڑھ کر بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا ۔ اُن کی بیوی مارنا دیا۔ ؟ خاوند کی محبت کی وجہ سے برداشت نہ کر سکیں ، آگے آکر کھڑی ہو گئیں ۔ کہنے لگیں کہ مارنا ہے تو مجھے مارو میں تمہاری بہن ہوں ان کو کیوں مارتے ہو؟ حضرت عمر نے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا ہوا تھا اور وہ آگے کی طرف حرکت کر رہا تھا ڑک نہ سکا اور پورے زور کے ساتھ اُن کی بہن کے منہ پر لگا اور ناک سے خون بہنے لگا۔ ایک بہادر آدمی کے لئے یہ چیز پریشان کر دینے والی تھی ۔ بہن کا خون دیکھ کر اُن کا غصہ اُتر گیا اور کہنے لگے بہن معاف کرنا غلطی ہوگئی ۔ جب دیکھا کہ بہن کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تو کہنے لگے اچھا وہ جو سُن رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ بہنوئی تو کچھ ڈرے مگر وہ صحابی جو قرآن سنا رہے تھے جوش سے باہر نکلے کہ عمر جیسا انسان قرآن شریف سننے کے لئے تیار ہے۔ حضرت عمر نے ورق کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ ان کی بہن نے ورق ہاتھ سے چھین لیا اور کہا کہ نا پاک ہاتھ نہ لگاؤ پہلے غسل کرو اور پھر اس پاک کلام کو ہاتھ لگاؤ ۔ ندامت اور شرمندگی تھی ، الله نہائے۔ اس کے بعد ایک آیت پڑھی تو دل نرم ہوا ، دوسری پڑھی اور نرم ہوا ، تیسری پڑھی تو اور حالت ہوئی، چوتھی پڑھی تو اور پانچویں پڑھی تو دل کی حالت اور ہوئی ، چھٹی پڑھی تو بے اختیار آنکھوں ھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ سورۃ ختم ہوئی تو خاموشی سے اُٹھے اور رسول کریم صلی ا علیہ وسلم کے پاس پہنچے ۔ اُن کا بھی دروازہ بند تھا دستک دی ۔ کسی نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا عمر بن الخطاب ۔ عمر مکہ کے بہادر اور لڑا کے آدمی تھے ۔ صحابہؓ نے آواز سنتے ہی عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ! عمر لڑا کا آدمی ہے دروازہ نہ کھولنا چاہئے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کھول دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چا حضرت حمزہ بہت بہادر سپاہی تھے اُنہوں نے کہا دروازہ کھول دو میں دیکھوں گا عمر کس طرح گستاخی کا معاملہ کرتا ہے۔ عمر مجرموں کی طرح داخل ہوئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ عمر کس طرح آئے ہو؟ کہنے لگے يَا رَسُولَ اللَّهِ ! آپ کا غلام ہونے آیا ہوں ۔ صحابہؓ نے سنتے ہی اس قدر زور سے تکبیر کا نعرہ بلند کیا کہ مکہ گونج اُٹھا ہے تو مسلمان اتنے تنگ تھے کہ کھلے بندوں نماز تک نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ اُس وقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے محمد ! میں تجھے ہر چیز کی کثرت دوں گا اتنی قو میں تیرے مذہب میں داخل ہوں گی