انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 394

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمد یہ مقامی کی ریلی سے خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو قریظہ پر حملہ کیا تو آپ نے فرمایا اب ہم عصر کی نماز ان کے علاقہ میں جا کر پڑھیں گے کے مطلب یہ تھا کہ لوگوں کو جلدی کرنی چاہئے اس پر بعض لوگ جو سامان جنگ جمع کر رہے تھے اُنہیں وہاں پہنچنے میں دیر ہوگئی اور راستے میں ہی عصر کا وقت آگیا جب عصر کی نماز کا وقت تنگ ہونے لگا تو بعض نے کہا ہمیں یہیں نماز پڑھ لینی چاہئے اور بعض نے کہا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عصر کی نماز ان کے علاقہ میں پڑھی جائے گی تو ہم وہیں جا کر نماز پڑھیں گے چنانچہ بعض نے عصر کی نماز پڑھ لی اور بعض نے نہ پڑھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا جنہوں نے راستہ میں نماز نہیں پڑھی انہوں نے اچھا کیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ جنہوں نے راستہ میں نماز پڑھ لی انہوں نے بُرا کام کیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جن لوگوں نے یہاں آکر نماز پڑھی ہے وہ گنہگار نہیں ہیں حالانکہ عصر کی نماز مغرب کے وقت میں نہیں پڑھی جاتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ جب سورج زرد ہو جائے تو اس وقت نماز نہیں پڑھنی چاہئے ہے مگر باوجود اس کے جہاد کے موقع پر آپ نے ان کو اجازت دی اور نہ صرف اجازت دی بلکہ ان کے فعل کی تحسین کی اور اُسے اچھا قرار دیا۔ تو بعض کاموں کے وقت ایسے ہوتے ہیں جب عبادت کو پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اور جس کام میں انسان مشغول ہوتا ہے اُسے عبادت میں ہی شامل سمجھا جاتا ہے مثلاً پیچھے بعض خطرات کے موقع پر جب احرار کے اس قسم کے منصوبے سننے میں آئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہماری بیت مبارک کو جلا دیں یا اس میں بم پھینک دیں تو وہاں پہرہ کا انتظام کیا ۔ اب پہرہ دینے والا بیشک نماز میں شامل نہیں ہوتا لیکن وہ خدا کے حضور جماعت میں ہی شامل ہوتا ہے اور اگر اُسے دُکھ ہوتا ہے کہ نماز جارہی ہے مگر باوجود اس دُکھ کے وہ پھر بھی اپنے فرض کو ادا کرتا ہے تو اُسے دُہرا ثواب حاصل ہوتا ہے گویا اگر تو اُسے یہ دکھ نہیں کہ کیوں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے انسان بعض دفعہ نماز با جماعت ادا نہیں کر سکتا تو اسے ایک ثواب حاصل ہوتا ہے مگر جن کے دلوں میں یہ درد بھی ہوتا ہے کہ بد قسمتی سے ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ اب ہم میں سے بعض کو نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھنی ہوتی بلکہ انہیں پہرہ کیلئے کھڑا رہنا پڑتا ہے تو انہیں دو ثواب ملیں گے ایک نماز با جماعت کا ثواب اور ایک اس دُکھ اور درد کا ثواب ۔ ۔۔۔۔۔۔ میری غرض آج کام کے دیکھنے سے یہی تھی کہ میں معلوم کروں خدام الاحمد یہ