انوارالعلوم (جلد 16) — Page 393
انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمد یہ مقامی کی ریلی سے خطاب ایند تو آئندہ وہ اس کی ایسی نگرانی کرے گا کہ اُسے بھی راز کو محفوظ رکھنے کی عادت پیدا ہو جائے گی یا جب کسی کا پہرہ مقرر کریگا تو دیکھ لے گا کہ آیا وہ سُست تو نہیں یا پہرہ کی اہمیت سے تو غافل نہیں کہ اسے پہرہ پر مقرر کیا جائے اور وہ اپنے مقام کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے ۔ مثلاً ہو سکتا ہے کوئی آدمی ہو تو مضبوط مگر وہ سُست ہو یا اُسے اپنے مقام سے چلے جانے کی عادت ہو اور جب اُس سے پوچھا جائے تو وہ کہدے کہ میں پانی پینے چلا گیا تھا یا پیشاب کرنے چلا گیا تھا حالانکہ پہرہ کے معانی یہ ہیں کہ اگر کسی کا پیشاب نکلتا ہے تو نکل جائے، پیاس لگتی ہے تو لگتی رہے مگر وہ اپنے مقام سے ہلے نہیں جب تک اُس کا کوئی قائمقام نہ آجائے بلکہ پیشاب، پاخانہ تو الگ رہا اگر نماز کا وقت آجائے تب بھی پہرہ دار کو ہلنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ہم جو خدام الاحمدیہ کو ٹریننگ دے رہے ہیں یہ کسی دُنیوی بادشاہت کی حفاظت کے لئے تو نہیں ہم تو خدام الاحمدیہ کو اس لئے ٹرینگ ے رہے ہیں کہ اگر اسلام اور احمدیت کو کبھی خطرہ ہو تو اس کی حفاظت کے لئے میدان میں نکل ا آئیں پس خدام الاحمدیہ کا کام دنیا کا نہیں بلکہ دین کا ہے اور یہ بھی جہاد کا ایک چھوٹا سا شعبہ ہے آج چونکہ تلوار سے جہاد جہاد کا کا موقع مور نہیں اس لئے خدام الاحمدیہ کا کام اس جہاد کے ، قائم قائم مقام مقام ہے پس جس طرح جہاد کے موقع پر ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے اسی طرح خدام الاحمد یہ کی ٹریننگ میں اگر کسی شخص کی کوئی نماز فوت ہو جاتی ہے اور وہ اُس وقت ڈیوٹی پر ہے تو اگر وہ اس نماز کو دوسری نماز کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتا ہے تو وہ ہرگز گنہگار نہیں کہلا سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے موقع پر ایسا ہی کیا کرتے تھے بلکہ ایک دفعہ تو آپ نے چار نمازیں چھوڑ دی تھیں اور پھر ان سب کو ملا کر پڑھ لیا تھا۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اتنے پابند تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو کہہ سکے کہ اُسے نماز کی پابندی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر احساس ہے مگر باوجود اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز نہیں، دو نمازیں نہیں ، تین نمازیں نہیں چار نمازیں چھوڑ دیں اور بعد میں ان کو جمع کر کے پڑھ لیا۔ پس اگر ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہوئے کسی شخص کی کوئی نماز رہ جاتی ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا بلکہ صرف اتنے معنی ہیں کہ وہ اُس وقت نماز نہیں پڑھے گا بعد میں پڑھ لے گا۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ سے فارغ ہوئے تو آپ نے چاروں نمازیں جمع کر لیں بلکہ بعض حالات میں ت میں آپ نے دوا لیسی نمازیں بھی جمع کی ہیں جو عام حالات میں جمع نہیں ہو سکتیں مثلاً عصر کی نماز مغرب کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی مگر