انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 395

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی ۔ لی ریلی سے خطاب کو کس رنگ میں ٹریننگ دی گئی ہے مگر کام دیکھنے کے بعد میں افسوس کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس لحاظ سے خدام الاحمدیہ کا کام بالکل صفر ہے۔ در حقیقت تنظیم ایسی ہونی چاہئے کہ ہر شخص حکم ملنے پر فوراً اُس کی تعمیل کے لئے کھڑا ہو جائے ۔ اسی طرح جب بیٹھیں تو سب کو قطاروں کی صورت میں بیٹھنا چاہئے اور ایک قطار میں دو دو آدمی ہونے چاہیں ۔ آج اس صورت میں لوگ نہیں بیٹھے مگر میں اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ اس ہدایت کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی طرح مرکزی عہدے داروں کو بار بار ماتحت مجالس میں جا کر ان کا کام دیکھنا چاہئے ۔ میں سمجھتا ہوں چونکہ صدر اور سیکرٹری بار بار محلوں میں جا کر مجالس کے کام کو نہیں دیکھتے اس لئے یہ نقائص واقع ہوئے ہیں پھر بعض گروپ لیڈر ایسے ہیں جو چھوٹے ہونے کی وجہ سے دوسروں کو حکم نہیں دے سکتے اور وہ ان سے ڈرتے ہیں۔ بعض آداب مجلس کا خیال نہیں رکھتے چنانچہ میرے سامنے ایک گروپ لیڈر نے اپنے ممبروں سے کہا اچھا یا روکھڑے ہو جاؤ حالانکہ یہ ہمارے ملک میں شرفاء کی زبان نہیں سمجھی جاتی اگر صدر اور سیکرٹری متواتر ماتحت مجالس کے کاموں کو دیکھتے تو بہت سی غلطیوں کی اصلاح ہو ہو جاتی ۔ دفتری کام سے کبھی تنظیم نہیں ہو سکتی۔ تنظیم تبھی ہوتی ہے جب افسر شامل ہوں اور ان کے سامنے کام کیا جائے یا انہیں پتہ لگے کہ کام میں کیا کیا نقائص ہیں اور وہ کس طرح ڈور کیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح مثلاً خاموش رہنا ہے۔ لوگوں کو ایسی ٹریننگ دینی چاہئے کہ جب خاموش ہونے کا وقت ہو تو اُس وقت بالکل نہ بولیں ۔ میں نے دیکھا ہے تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اچھے پڑھے لکھے آدمی جمعہ کے دن خطبہ کے وقت جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح طور پر حکم ہے کہ کوئی شخص نہ بولے اور سب خاموشی سے خطبہ سنیں ہے اس وقت بھی بول پڑتے ہیں ۔ میں نے اسی جمعہ میں دیکھا کہ ایک گریجوایٹ جو قادیان میں ۱۴، ۱۵ سال سے بستا ہے خطبہ کے دوران میں ایک دوسرے شخص سے زبان سے یا اشارہ سے باتیں کر رہا تھا اور میں دُور سے دیکھ رہا تھا اسی طرح جمعہ کے دن میں نے ایک ناظر کو دیکھا وہ بار بار سر اور ہاتھ مار مار کر بعض اور لوگوں کو بلا رہے تھے کہ آگے آجاؤ حالانکہ یہ بالکل نا جائز ہے اشارے سے صرف منع کرنے کی اجازت کا حدیثوں میں ذکر آتا ہے۔ یہ کہیں نہیں آتا کہ اشارے سے دوسروں کو بُلا یا بھی جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص خطبہ کے وقت بول رہا ہو تو اسے منع کرنے کے لئے بھی دوسرں کو بولنے کی اجازت نہیں اُس وقت صرف خطیب کا کام ہے کہ وہ بولے یا پھر وہ شخص بولے جسے خطیب نے اجازت دی ہو دوسرے لوگ بول کر منع بھی نہیں کر سکتے ۔ ہاں اتنی اجازت ہے کہ