انوارالعلوم (جلد 15) — Page 436
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اور خود ملک والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر ہمارا رسول تمہاری کثرت رائے کے ما تحت دیئے ہوئے اکثر مشوروں کو قبول کر لے تو تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ گویا رسول کریم کی حکومت کا یہ طریق نہیں تھا کہ آپ کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کرتے بلکہ جب کثرت رائے کو مفید سمجھتے تو کثرت رائے کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیتے اور جب کثرت رائے کو مصر سمجھتے تو اس کے خلاف فیصلہ کرتے ۔ كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں تھا کہ رسول کریم ﷺ ہر بات قبول کر لیتے بلکہ آپ کو اختیار تھا کہ جب آپ لوگوں کی رائے میں کسی عليه قسم کا نقص دیکھیں تو اسے رد کر دیں اور خود اپنی طرف سے کوئی فیصلہ فرما دیں ۔ وجہ صلى الله صلى الله صلى الله (۶) پھر فرماتا ہے ۔ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِم لے کہ اے محمد ﷺ ان کے اموال سے صدقہ لو اور اس کے ذریعہ ان کے دلوں کو پاک کرو۔ ان کی اقتصادی حالت کو درست کرو۔ وَصَلِّ عَلَيْهِمْ اور پھر ہمیشہ ان سے نرمی کا معاملہ کرتے رہو ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین احکام دیتے ہیں ۔ اول یہ کہ لوگوں سے زکوۃ لو کیونکہ اس کے ذریعہ ان کے دلوں میں غریبوں سے پیار اور حسن سلوک کا مادہ پیدا ہو گا ۔ دوسرا حکم یہ دیا کہ زکوۃ کے روپیہ کو ایسے طور پر خرچ کیا جائے کہ اس سے غرباء کی حالت درست ہوا اور وہ بھی دنیا میں ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکیں ۔ تیسرا حکم صَلِّ عَلَيْهِمْ کے الفاظ میں یہ دیا کہ زکوۃ کے لینے میں سختی نہ کی جائے بلکہ ہمیشہ حکم کا نرم پہلو اختیار کیا جائے ۔ اسی سے رسول کریم علی جب محصلین کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجتے تو آپ ہمیشہ یہ تاکید فرمایا کرتے کہ موٹا دُنبہ اور اونٹ چُن کر نہ لینا بلکہ اپنی خوشی سے وہ جن جانوروں کو بطور زکوۃ دے دیں انہی کو لے لینا اور یہ خواہش نہ کرنا کہ وہ زیادہ اعلیٰ اور عمدہ جانور پیش کریں ۔ گو یا شرعاً اور قانو نا جس قد ر نرمی جائز ہو سکتی ہے اسی قدر نرمی کرنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے ۔ (۷) ساتویں آیت جس میں حکومت سے تعلق رکھنے والے امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَرحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلْفَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَنْ يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ قَالُوا لا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ ١٣ یعنی وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے غضب کے ماتحت اس امر کی توفیق نہ پا سکے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ جہاد کے لئے نکلیں اور جنگ میں شامل ہوں ، وہ اپنے پیچھے