انوارالعلوم (جلد 15) — Page 437
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده رہنے پر بہت ہی خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات کو بُراسمجھا کہ وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں ۔ اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ سخت گرمی کا موسم ہے ایسے موسم میں جہاد کیلئے نکلنا تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرَّا تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اب گرمی کا بہانہ بنا کر تو تم پیچھے رہ گئے ہو مگر یاد رکھو جہنم کی آگ کی تپش بہت زیادہ ہوگی ۔ - صلى الله عل وسه کاش وہ اس امر کو جانتے اور سمجھتے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صریح لفظوں میں رسول کریم علی کو جہاد کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ سپاہی بنوا اور دشمنوں سے لڑواور یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ تیرے حکم کے ماتحت لڑنے کے لئے نہیں نکلیں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم قرار پائیں گے ۔ (۸) پھر فرماتا ہے۔ اِنَّمَا جَزَؤُا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ، ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ١٢ کہ وہ لوگ جو اللہ اور رسول سے لڑتے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی جزاء یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا انہیں صلیب دیا جائے یا ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو مقابل پر کاٹ دیا جائے یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے ۔ ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیم اور یہ امر ان کے لئے دنیا میں رسوائی کا موجب ہوگا اور آخرت میں عذاب عظیم کا موجب ۔ عرب سے کفار کے نکالے جانے کا حکم (9) اس طرح سورہ توبہ کی پہلی آیات میں عرب سے کفار کے نکالے جانے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ بَرَاء مِّنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍو اعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ، وَانَّ اللهَ مُخْزِي الْكَفِرِينَ وَأَذَانَ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوية إلى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجَّ الْأَكْبَرِ انَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ : وَرَسُولُهُ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ