انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 435

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده صلى الله قوانین بناتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے یہ اختیار جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کو دے دیا ہے جو لا جو لوگ اس کی اتباع کریں گے وہ کامیاب ہوں گے اور جو اطاعت سے انحراف کریں گے وہ ناکام ہوں گے۔ (۵) اسی طرح فرماتا ہے۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ يُطِيعُكُمْ في كَثِير مِنَ الأمْرِ لَعَيْتُمْ وَلَكِنَّ اللهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الإِيمَانَ وَزَيَّنَه في قُلُوبِكُمْ وَكَرَّةَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ال اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ محمد ﷺ کی حکومت ہو گی کس طرح ؟ آیا دنیوی بادشاہوں کی طرح یا کسی اور رنگ میں ؟ فرماتا ہے خدا کا رسول تم میں موجود ہے اگر وہ تمہارے اکثر مشوروں کو قبول کرے تو تم یقیناً مصیبت میں پڑ جاؤ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان پیدا کر دیا ہے اور تم اُس کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھتے ہو اور جانتے ہو کہ ایمان کا تمہارے پاس رہنا تمہارے لئے کس قدر مفید اور بابرکت ہے اور ایمان کا ضیاع تمہارے لئے کس قدر مہلک ہے وزيَّنَه فِي قُلُوبِكُمْ اور پھر اس ایمان کو اس نے تمہارے دلوں میں نہایت خوبصورت شکل میں قائم کر دیا ہے اور گھر فسق ، عصیان اور خروج عن الاطاعت کو اس نے تمہاری آنکھوں میں مکروہ بنا دیا ہے اس لئے تمہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارے رسول کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو تمہارے مشوروں کو قبول کرے اور اگر چاہے تو رڈ کر دے۔ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایات پانے والے ہیں ۔ صلى الله عل رسول کریم کا طریق حکومت اس آیت میں اللہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول الله صلى الله عروسه ن کا ذکر کیا کے طریق حکومت کا ذکر ہے اور بتایا ہے کہ آپ کا طریق حکومت یہ نہیں تھا کہ آپ ہر بات میں لوگوں کا مشورہ قبول کرتے اور اس کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ کوئی کہہ سکتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت وہی فیصلہ کیا کرتے تھے جو قوم کا فیصلہ ہوا کرتا تھا جیسے پارلیمنٹیں ملک کے نمائندوں کی آواز کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اسی طرح کوئی کہہ سکتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک کا فیصلہ ہی لوگوں سے منواتے تھے اپنا قانون ان میں نافذ نہیں کرتے تھے ۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کر دیا