انوارالعلوم (جلد 15) — Page 80
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی (GOD) یا خداوند یسوع مسیح کہتے ہیں ، کوئی ہندوستان کا خدا ہے جسے وہ پر میشور یا اوم کہتے ہیں ، کوئی یہودیوں کا خدا ہے جسے وہ یہوواہ کہتے ہیں ۔ غرض یہ مختلف خدا ہیں جو دنیا میں موجود ہیں ۔ اگر اب یہ آ کر کہہ رہا ہے کہ صرف ایک خدا کو مانو تو کیا یہ سب خداؤں کو اکٹھا کر کے ایک بنادے گا ؟ یہ تو عقل کے خلاف ہے کہ اتنے خداؤں کو گوٹ کاٹ کر ایک خدا بنا دیا جائے ۔ غرض کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے اپنے اس تعجب کا اظہار کیا مگر اب دیکھو یزدان اور گاڈ اور اوم اور یہوواہ وغیرہ سب نام اللہ کے اندر آگئے اور اللہ کا نام ہی سب ناموں پر غالب آ گیا ہے اور آج ساری دنیا تو حید کے خیال کی صحت کو تسلیم کر رہی ہے۔ دشمنوں کو جو حیرت توحید کے دعوی سے ہوتی تھی ویسی ہی آپ کے اس دعوٹی سے ہوئی کہ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً للنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذیرا ہم نے تجھے ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اس کے بارہ میں آتا ہے وَلكِن اكثر النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ لیکن اکثر لوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ۔ میں سمجھتا ہوں اس زمانہ میں لوگوں کے لئے یہ نکتہ سمجھنا ایسا ہی مشکل تھا جیسے آدم کے زمانہ میں لوگوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ ایک غیر شخص جو ہمارے ہی جیسا ہو ہمارے معاملات میں دخل دینے کا حق رکھتا ہے۔ کفار مکہ بھی اس دعوی پر سخت حیران ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ پیدا تو ہو ا عرب میں اور کہتا ہے کہ میں ایران کا بھی نبی ہوں اور چین کا بھی نبی ہوں ، اور مغرب کا بھی نبی ہوں ، اور مشرق کا بھی نبی ہوں ۔ چنانچہ وہ اپنے اس استعجاب کا اظہار کرتے اور کہتے ہیں ۔ متى هذا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ ساری دنیا ایک جھنڈے کے نیچے آنے والی ہے تو یہ بات کب ہو گی؟ فرما یا قُلْ لَكُمْ مِّيْعَادُ يَوم آے تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ بس اس زمانہ کے آنے میں اتنی ہی دیر ہے جتنی کہ سورہ سجدہ میں بتائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ۔ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ٤٥ یعنی اللہ تعالی امر اسلامی کو پہلے تو زمین میں قائم کرے گا پھر وہ ایک ہزار سال کے عرصہ میں آسمان پر اُٹھ جائے گا ۔ اس آیت میں اسلام کے پہلے ظہور کا زمانہ بتایا گیا ہے جس میں سے ایک ہزار سال کا عرصہ معین کر دیا ہے اور پہلا عرصہ غیر معین رکھا ہے۔ لیکن اسے حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم