انوارالعلوم (جلد 15) — Page 79
انوار العلوم جلد ۱۵ میدان سے نکل کر مشاہدہ کے میدان میں آ گیا ہے۔ انقلاب حقیقی اتحاد اُمم کی بنیاد گیارہویں عظیم الشان فضیلت قرآن کریم کو یہ حاصل ہے کہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا لایا ہو ا پیغام کسی ایک قوم با اپیغام کسی ایک قوم یا دوقوموں کیلئے نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً للنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ وَ يَقُولُونَ مَتَى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ قُلْ لَكُمْ مِيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَة سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ * کہ اے رسول ! ہم نے تجھے ساری دنیا کی طرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اور تیرے ذریعہ سے ہم سب دنیا کو ایک نظام پر جمع کرنے والے ہیں ۔ اب دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان انقلاب ہے اور انقلاب بھی ایسا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی پہلے ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور جو تعلیم وہ لاتا اپنی قوم کے لئے لاتا تھا۔ چنانچہ ہندوستان میں اگر کرشن حکومت کر رہے تھے تو ایران میں زرتشت حکومت کر رہے تھے اور چین میں کنفیوشس حکومت کر رہے ۔ کومت کر رہے ہیں ۔ اسی طرح کوئی موسیٰ کی اُمت تھا تو کوئی عیسی کی مگر خدا نے کہا اب دنیا میں ایک ہی مذہبی حکومت ہوگی اور ظاہری اور باطنی طور پر تمام دنیا ایک ہی جھنڈے کے نیچے لائی جائے گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی اس خصوصیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ کہ كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة کے کہ پہلے ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جایا کرتا تھا مگر میں روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔ - یہ انقلاب چونکہ ایک نیا انقلاب تھا اور لوگوں نے یہ پہلی دفعہ سنا کہ تمام دنیا روحانی لحاظ سے ایک ہونے والی ہے اس لئے وہ دنگ رہ گئے ۔ اور جس طرح آپ نے توحید کی تعلیم پیش کی تھی اور کفار حیران ہو گئے تھے ویسا ہی اس دعولٰی کے وقت بھی ہوا۔ چنانچہ توحید کی تعلیم کے بارہ میں قرآن کریم میں آتا ہے کہ کفار اسے سنکر کہہ اُٹھے اجعل الأيمَةَ الْهَا وَاحِدًا - که دنیا میں پہلے جو اتنے خدا موجود ہیں کیا ان سب کو اکٹھا کر کے یہ ایک خدا بنانا چاہتا ہے؟ یعنی کوئی ایرانیوں کا خدا ہے جسے وہ اہرمن یا یزدان کہتے ہیں ، کوئی عیسائیوں کا خدا ہے جسے وہ گاڑ