انوارالعلوم (جلد 15) — Page 81
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی نے معین کر دیا ہے ۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُم ثُمَّ الْفَيْجُ الاعْوَجُ " کے یعنی بہترین صدی میری ہے پھر اس کے بعد کی صدی پھر اس کے بعد کی صدی پھر بتا ہی ہے۔ را که تدبیر امر کا زمانہ تین صدیاں ہیں اور اس کے تدبیر امر کا زمانہ اس سے معلوم ہوا کہ تد بیرا بعد تباہی کا زمانہ ایک ہزار سال اور اس کے بعد پھر ترقی کا زمانہ۔ گو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال بعد اسلام کا دوبارہ اِحیاء مقدر بنایا گیا تھا۔ پس اس جگہ جو قُلْ لَكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ کہا ہے تو اس سے اسی یوم کی طرف اشارہ ہے جس کا سورہ سجدہ میں ذکر ہے اور وہ ہزار سال تنزّلِ اسلام کے ہیں جس کے بعد بتایا گیا ہے کہ پھر اسلام ترقی کرے گا اور ساری قوموں میں پھیل جائے گا کیونکہ وہ زمانہ تکمیلِ اشاعت اسلام کا زمانہ ہوگا آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ على الدين كلم سے بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تکم پس اس جگہ میعاد یوم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میعاد یوم سے مراد سے پہلے کے تنزلِ اسلام کے ہزار سالہ دور کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اسلام کی دوبارہ ترقی مقدر کی گئی تھی ۔ بعض عیسائی اس موقع پر کہا کرتے ہیں کہ یہ تعلیم تمہاری حضرت مسیح کا حلقہ بی بی مذہب کی بھی یہی تعلیم ہے کہ تم اپنا پیغام تمام دنیا کو پہنچاؤ اور ہمارا مسیح بھی کسی ایک قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوا تھا بلکہ تمام دنیا کی طرف تھا۔ میں اپنے ایک پرانے مضمون میں عیسائیوں کے اس دعوئی کا جواب دے چکا ہوں اور انجیلوں کے متعدد حوالہ جات سے ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح ناصری تمام دنیا کی طرف نہیں آئے بلکہ محض بنی اسرائیل کی طرف آئے اور وہ خود انجیل میں کہتے ہیں کہ :۔ بھیجا گیا ،، میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں اور یہی طرز عمل ان کے حواریوں کا بھی تھا مگر آج میں ایک اور رنگ میں عیسائیوں کے اس دعوی کو باطل ثابت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر خدا نے کہا تھا کہ مسیح تمام دنیا کی طرف ہے اور