انوارالعلوم (جلد 12) — Page 606
انوار العلوم جلد ۱۳ ५۔५ بعض اہم اور ضروری امور دوسری ضروری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اوہام کا مقابلہ اوہام کا مقابلہ کیا جائے کیا جائے نبی اس لئے آتے ہیں کہ دنیا سے اوہام باطلہ مٹائیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ کل ہی ایک سوال پیش کیا گیا کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو تعویذ اور ٹونے کرتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے۔ میرے نزدیک یہ نہایت ہی کمزوری ایمان کی علامت ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک تعویذ دیا تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ دیا تھا مگر وہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ نور الدین صاحب جموں والے کے ہاں کوئی لڑکا نہ تھا انہوں نے مجھے کہا کہ میں حضرت صاحب سے ان کو تعویذ لے دوں۔ میری اس وقت بہت چھوٹی عمر تھی میں حضرت صاحب کے پیچھے پڑ گیا آپ نے دعا لکھ کر دی جو میں نے خلیفہ صاحب کو دے دی وہ دعا قبول ہو گئی اور خلیفہ صاحب کو خدا تعالیٰ نے نرینہ اولاد دی۔ دراصل وہ دعا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے لکھی اسی وقت قبول ہو چکی تھی۔ آگے اس تعویذ کو باندھنا خلیفہ صاحب کا کام تھا اس کا دعا کی قبولیت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ پس لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ اگر دعا کو لکھ لیا جائے اور لٹکا دیا جائے تب وہ قبول ہوتی ہے بیہودہ و ہم پیدا کرتا اور ذکر الہی کرنے کی جڑ کاٹتا ہے۔ دعا لکھنا تو منع نہیں لیکن جس کی دعا میں یہ اثر نہیں کہ ایک سیکنڈ میں قبول ہو اس سے دعا لکھا کر یہ سمجھنا کہ اب ہم دعا کرنے سے فارغ ہو گئے بہت بڑی غلطی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم کر دینے والی بات ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو مثال پیش کی جاتی ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ۃ و السلام کی وہ شان تھی کہ خدا تعالیٰ آپ کی آپ کی دعا ایک سیکنڈ میں قبول کرلے مگر آپ نے بھی اپنے طور پر کبھی دعا لکھ کر نہ دی۔ اپنے طور پر کبھی دعا لکھ کر نہ دی تاکہ غلط مثال نہ قائم ہو جائے بلکہ میرے اصرار پر ایک بار لکھی ۔ در اصل تعویذ ایک قسم کا خیالی مسمریزم ہے اور اگر دعا ہے تو دعا لکھوا کر یہ سمجھ لینا کہ اب ہم فارغ ہو گئے دعا کرنے کی ضرورت نہیں رہی ایک بہودہ بات ہے۔ حضرت مسیح موعود والسلام سے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اُ۔ نا وعدہ تھا أُجِيبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ الله عليه الصلوة والـ اور خلیفہ نورالدین صاحب آپ کے شرکاء میں سے نہ تھے ان کے متعلق آپ نے جو دعا کی وہ قبول ہو گئی مگر یہ کسی اور کو تو نہیں کہا گیا پھر وہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام