انوارالعلوم (جلد 12) — Page 607
انوارالعلوم جلد ۱۲ ५०८ بعض اہم اور ضروری امور کی مثال اپنے لئے قرار دے سکتا ہے۔ غور کرو۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام عادتاً تعویذ نہ لکھا کرتے تھے۔ نہ رسول کریم میں ایم نے ایسا کیا نہ آ۔ ایسا کیا نہ آپ کے خلفاء نے پھر نہ حضرت خلیفہ اول نے کیا اور نہ میں کرتا ہوں۔ اگر کسی کو یہ دعوی ہے کہ اس کا تعویذ لکھنا مؤثر ہو سکتا ہے تو وہ آئے اور لکھے میں اس کے مقابلہ میں صرف ہاتھ لگا دوں گا اور خدا تعالی اس سے فضل کرے گا۔ دراصل دعا کی جڑ انکساری اور تذلیل ہے اور تعویذ اس کی جڑ کو کاٹ دیتا ہے ۔ اگر کوئی بات پوری بھی ہو جائے تو تعویذ لکھنے لکھانے والے یہ نہیں کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی بلکہ یہی کہیں گے کہ تعویذ کی برکت سے ایسا ہوا اور یہ شرک ہے۔ خدا تعالیٰ نے جو تعویذ دیا ہے اس پر کیوں عمل نہیں کیا جاتا۔ مثلاً ہر قسم کی تکلیف بیماری وغیرہ کے وقت یہ پڑھا کرو ۔ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَ مِنْ شَرِّ النَّفْثَتِ فِي الْعُقَدِ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ - ها، ایک دفعہ دعا لکھ کر یہ سمجھ لینا کہ اس کا اثر ہوتا رہے گا وہی بات ہے جو ایک ہندو کے نہانے کے متعلق مشہور ہے جس نے سردی کے موسم میں دریا سے واپس آتے ہوئے پنڈت سے یہ کہہ کر تور اشنان سومور اشنان سمجھ لیا تھا کہ میرا بھی اثنان ہو گیا۔ تعویذ بھی یہی ہوتا ہے کہ لکھا کر رکھ لیا اور سمجھ لیا کہ اب دعا کرنے سے فراغت حاصل ہو گئی۔ اس قسم کی گندی باتوں کو مٹانا ہمارے فرائض میں داخل ہے کیونکہ یہ اس صحیح سپرٹ کو مٹانے والی ہوتی ہیں جسے پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے نبی آتے ہیں۔ اگر ان باتوں سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو وہم کی وجہ سے ہوتا ہے مگر رہم کو ترقی دینا سخت نقصان رساں ہے۔ تیسری چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ تبلیغ ہے۔ اس سال تبلیغ احمدیت يوم التبلیغ کا کا اعلان کیا گیا تھا یہ تھا یہ اتنا با برکت ۔ کت ثابت ہوا ہے کہ کئی لوگ جنہوں نے سالہا سال سے تبلیغ نہ کی تھی انہوں نے بھی اس دن تبلیغ کی۔ ابھی چند دن ہوئے ایک نواب صاحب آئے تھے ان کے ساتھ ایک معزز صاحب تھے جنہوں نے بیعت کی اور کہا یہ نواب صاحب کے یوم التبلیغ منانے کا نتیجہ ہے۔ دس بارہ سال سے ان سے میرا تعلق تھا لیکن کبھی انہوں نے تبلیغ نہ کی تھی۔ اس دن جو میں ان کے پاس گیا تو کہا آج ہمیں تبلیغ کرنے کا حکم ہے اور خوب تبلیغ کی اسی دن میں نے بیعت کر لی۔ اس دن ایسی مزیدار تبلیغ ہوئی کہ کئی دوستوں نے خواہش ظاہر کی کہ یہ دن بار بار آنا