انوارالعلوم (جلد 12) — Page 605
انوا را العلوم جلد ۱۲ ڈالنے والی۔ ۶۰۵ بعض اہم اور ضروری امور ابھی چند دن ہوئے، میں لاہور گیا تو مسلمانوں انگلستان میں تبلیغ اسلام کے اثرات کے ایک لیڈر مجھ ملنے آئے ۔ عبداللہ یوسف علی صاحب ان کا نام ہے ، بہت قابل اور سمجھ دار آدمی ہیں، مسلمانوں میں جو اعلیٰ طبقہ ہے اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں انگلستان میں رہتا ہوں۔ آپ کے مشن میں بھی جاتا ہوں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے مشن کے ذریعہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے ہیں مگر وہ لر وہ بہت غریب طبقہ کے ہیں۔ کیا آپ امید آپ امید رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعہ یورپ یورپ کو مسلمان کر لیں گے۔ میں نے کہا ہاں میں مانتا ہوں کہ نو مسلم غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ پھر آپ اس مشن پر اتنا روپیہ کیوں صرف کرتے ہیں۔ میں نے کہا اس لئے کہ جب ہم ہندوستان میں تبلیغ اسلام کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں مذہب کو کیا لئے پھرتے ہو ، یورپ کے فلسفہ نے مذہب کو مٹا دیا ہے لیکن جب کوئی انگریز مسلمان ہوتا ہے اور ہندوستان میں اس کا اعلان ہوتا ہے تو وہ لوگ جو اہلِ یورپ کی تقلید میں مذہب کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے، انہیں خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بھی مذہب کے متعلق غور کرنا چاہئے۔ اس پر کہنے لگے میں سمجھ گیا آپ اس مشن سے بلا واسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ غرض بعض باتیں بلا واسطہ فائدہ دیتی ہیں۔ انہی میں ہر احمدی کو ڈاڑھی رکھنی چاہئے سے ایک ڈاڑھی رکھنا ہے۔ ایک صاحب میرے م پاس آئے اور آکر کہنے لگے کیا ڈاڑھی رکھنے سے خدا ملتا ہے۔ میں نے کہا۔ ڈاڑھی رکھنے سے نہیں مگر محمد میں اللہ کی اطاعت کرنے سے خدا ملتا ہے آپ نے چونکہ ڈاڑھی رکھی اس لئے ہمیں بھی آپ کی تقلید میں ڈاڑھی ر بھی رکھنی چاہئے۔ ہم نے حکم دیا تھا کہ ایسے لوگ سلسلہ کے کاموں میں افسر نہ بنائے جائیں گے جو ڈاڑھی منڈا ئیں اور فیصلہ کیا تھا کہ امپیریل سروس وغیرہ میں جہاں ڈاڑھی منڈانے کی مجبوری ہو وہاں بھی ہم اجازت نہیں دیں گے کیونکہ ہم شریعت بدل نہیں سکتے۔ ہاں اتنا کریں گے کہ ان کو عہدہ سے محروم نہ کریں گے مگر اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا جا رہا اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مخلص نوجوانوں نے بھی ڈاڑھی منڈانی شروع کر دی ہے۔ ڈاڑھی رکھنا ایک ضروری امر ہے اور ہر احمدی کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔