انوارالعلوم (جلد 12) — Page 572
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۷۲ بعض اہم اور ضروری امور انشاء اللہ اسی طرح مضامین مقرر کئے جایا کریں گے ۔ یعنی مضامین تو وہی ہونگے ۔ لیکن ان کے ہیڈنگس مختلف اور نئے مقرر کئے جایا کریں گے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ہمارا سیج جلسہ سالانہ چونکہ حضرت ایک اور فیصلہ مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت میں ہوتا ہے اس لئے اس سٹیج پر پرانے صحابہ اور پرانے کارکنوں کو بولنا چاہئے اور نئے آدمیوں کیلئے یہ رکھا تھا کہ کم از کم سات آٹھ سال انہیں خدمت دین کا موقع ملا ہو اور ان کی رائے سلجھ چکی ہو ۔ میں نے یہ فیصلہ ایک حکمت کے ماتحت کیا تھا اور وہ حکمت یہ ہے کہ دنیا فیصلہ میں حکمت میں صرف علم ہی رائے کو پختہ کرنے کیلئے کافی نہیں ہوتا بلکہ تجربہ بھی رائے کو سلجھاتا ہے اور نوجوانوں کے مقابلہ میں عمر رسیدہ لوگوں کی رائے بہت پختہ ہوتی ہے۔ ادھر نوجوانوں میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ آگے بڑھیں اگر اس کیلئے کوئی حد بندی نہ ہو تو وہ بوڑھے جنہوں نے علم اور تجربہ تو حاصل کیا ہوا ہے مگر ان میں جنگی سپرٹ نہیں ہوتی ان کو ایسے نوجوان پیچھے کر دیں گے۔ اس حکمت کے ماتحت میں نے کہا ہمیں ابھی سے یہ انتظام کر دینا چاہئے کہ تجربہ کار بوڑھوں کو پیچھے نہ ڈالا جا سکے۔ اس پر نوجوانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں آج نہیں تو آج سے چند سال بعد ان کو بولنے کا موقع مل سکے گا اور اگر وہ گھبراتے ہیں تو پھر رسول کریم سلیم نے فرمایا ہے جو شخص خود کسی عہدہ کا طلب گار ہوتا ہے اسے عہدہ نہ دو کہ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ بھی احتیاط کرتا ہے چنانچہ نبوت کے سٹیج پر چالیس سال کی عمر کے بعد ہی لاتا ہے ورنہ کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ رسول کریم مسلم کی جب پندرہ میں سال کی عمر تھی اس وقت نَعُوذُ بِاللهِ آپ میں کوئی نقص تھا۔ نبی کی طبیعت تو بچپن میں ہی مسلجھی ہوئی ہوتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ چونکہ انبیاء کو دنیا کیلئے مثال بنانا چاہتا ہے اس لئے پختہ عمر کے بعد نبوت کے درجہ پر فائز کرتا ہے۔ خادم صاحب کو جو یہ شکوہ پیدا ہوا ہے کہ کسی نقص کی وجہ سے ان کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا یہ درست نہیں۔ نقص ان کا نہیں بلکہ ان کی عمر کا ہے اور جو شکایت انہوں نے پیش کی ہے وہ میرے علم کے بغیر وقوع پذیر ہوئی ہے۔ وہ منتظمین کی غلطی تھی ان کا فرض تھا کہ جو اصل میں نے قرار دیا تھا اس کے مطابق کام کرتے۔ باقی اللہ تعالٰی اگر کسی کو نیابت کا درجہ عطا کر دے تو اور بات ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیابت عطا ہوتی ہے تو کوئی بندہ اسے روک نہیں سکتا۔