انوارالعلوم (جلد 12) — Page 571
انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۷۱ بعض اہم اور ضروری امور علیہ السلام کے وقت کی شائع شدہ کتب کی قدر جانتے ہوں وہ خرید سکتے ہیں۔ دس ہزار کی کتابیں اگر تھوڑی تھوڑی بکتی رہیں تو ان کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ مفتی محمد صادق صاحب کے پاس ان کتب کی فہرست ہے دوست ان سے معلوم کر سکتے ہیں۔ ایک اور سفارش میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آٹھویں سفارش کے ایک پرانے صحابی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ہیں۔ ان کے لڑکے نے فوٹو کی دکان نکالی ہے میں اپنے آپ کو مستثنیٰ کرتا ہوا کہتا ہوں مکان سجانے کیلئے کیمرے کے فوٹو رکھنا نا جائز نہیں اگر چہ یہ ڈر ہو سکتا ہے کہ کوئی بری صورت نہ پیدا ہو جائے مگر فوٹو کا فائدہ بھی ہو سکتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا فوٹو شائع کیا بھائی جی کے لڑکے نے فوٹو بنائے ہیں جو دوست دوسروں کو دکھانے کیلئے یا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں دیکھا آپ کی شکل دیکھنے کیلئے وہ فوٹو خرید سکتے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو مستثنیٰ اس لئے کیا ہے کہ میرے کمرہ میں جو فوٹو ہوتے ہیں وہ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ کوئی صاحب دے جاتے ہیں کہ یہاں رکھ دو وہ کمرے میں پڑے رہتے ہیں پھر صفائی کرنے والے اُٹھا کر کہیں رکھ دیتے ہیں ورنہ میں نے کبھی کوئی فوٹو نہیں رکھا نہ مجھے کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سال جلسہ سالانہ کے پروگرام جلسہ میں تبدیلی پروگرام میں کچھ تغیرات کئے گئے تھے۔ میرے پاس شکایتیں آئیں کہ ہر سال ایک ہی قسم کے مضامین کی تکرار کی جاتی ہے۔ گو بیان کرنے والوں کا پیرا یہ مختلف ہو، استدلالات میں فرق ہو مگر چیز وہی ہوتی ہے جو پہلے کئی بار پیش کی جاتی ہے۔ مثلاً وفات مسیح صداقتِ مسیح موعود علیه الـ موعود علیہ السلام وغیرہ کے مسائل۔ ان حالات کو دیکھ کر اب کے میں نے پروگرام میں بعض اصلاحات کیں اور نظارت دعوت و تبلیغ کو بتایا کہ ایک ہی مضمون کو کئی طریق سے بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس کے عنوان مقرر کر دیئے جائیں اور ہر سال وہ عنوان بدلتے رہیں۔ اس طرح لیکچر دینے والا مجبور ہو گا کہ مطالعہ کرے تحقیق کرے اور غور و فکر سے اپنے مضمون کی تیاری کرے۔ اب کے میں نے مضامین کے ہیڈنگس خود مقرر کر دیئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا یہ ہوا کہ جتنے لیکچرار مقرر کئے گئے ، وہ گھبرا گئے۔ ان میں سے بعض کی تو میں نے مدد کر دی اور انہیں مضامین کے متعلق ضروری اصول بتا دیئے۔ اگر اس طرح مضامین بیان کئے جائیں تو سالہا سال تک ایک ہی موضوع پر لیکچر دیئے جا سکتے ہیں۔ آئندہ