انوارالعلوم (جلد 12) — Page 558
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۵۸ مستورات سے خطاب پر رونے لگ جاتی ہیں کہ میرا صبر یہ صبر کوئی صبر نہیں ہوتا۔ چنانچہ رسول کریم میں ایم کی نسبت آیا ہے آپ کہیں تشریف لے جا رہے تھے ایک عورت بے تابی سے رو رہی تھی۔ آپ نے دریافت فرمایا کیوں روتی ہے ؟ عرض کیا گیا حضور اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ نے اس عورت کے پاس جاکر فرمایا صبر کرو۔ وہ جواب دیتی ہے کہ جس کے دل کو لگے وہی جانے۔ اے شخص (اس نے رسول کریم کو پہچانا نہ تھا تیرا بھی کوئی بچہ مرتا تو جانتا کتنا دکھ ہوتا۔ آپ نے فرمایا میرے تو کئی بچے مر گئے ہیں۔ پیچھے جب اس کو کسی نے بتایا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم تھے تو وہ عورت دوڑی آئی کہ یا رسول اللہ " میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا اب صبر کرتی ہوں معاف فرمائیں۔ آپ نے فرمایا اب کیا صبر ہے! صبر تو پہلے کرنا تھا رو دھو کر صبر کرنا بے فائدہ ہے ۔ کہ تو تم بھی اگر صحابیات کی طرح صبر کرنے کی مشق کرو گی تب کچھ ملکی معاملات اور حقوق کو استعمال کرنے کی قابلیت پیدا کرو گی۔ ورنہ جو آدمی ذرا ذرا بات میں صبر اور تحمل برداشت کی عادت نہیں رکھتا وہ ملکی معاملات میں کیا ہمت دکھلا سکتا ہے۔ تمہارا دماغ غم و الم وغیرہ سے خالی ہو گا تب کچھ کام کر سکو گی ورنہ یوں ہی زہ زبانی واویلا بے کار ہے۔ مر پھر جرأت ہے یاد رکھو انسان سے جرأت سب کام کرواتی ہے۔ اگر دل میں جرات ہو تو انسان بہادری سے کام کر سکتا ہے ورنہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اپنی دلی جرأت جس طرح کام کروا سکتی ہے کسی دوسرے کی امداد سے وہ کام ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ایک واقعہ کشمیریوں کا لکھا ہے کہ کشمیری قوم کے لوگ ایک فوج میں بھرتی ہوئے۔ جب جنگ ہونے لگی جرنیل نے حکم دیا کہ فلاں جگہ فوج کھڑی ہو۔ تو ایک دو سپاہی افسر کے پاس جا کر عرض کرنے لگے کہ حضور ہمارے ساتھ کوئی پہرہ دار ہونا چاہئے جو ہماری حفاظت کرے۔ افسر نے سمجھ لیا کہ یہ بزدل ہیں۔ چنانچہ اب کشمیریوں کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔ مگر ہمارے ایک بزرگ بادشاہ ہوئے ہیں انہوں نے چیونٹی سے سبق لیا کہ وہ کئی بار ان کے سامنے دیوار پر سے گری اور پھر پڑھی۔ آخر پوری دیوار طے کر کے کامیاب ہو گئی تو اس سے بادشاہ نے سبق لیا اور کئی بار ہارنے پر آخر فاتح شہنشاہ بن گئے ۔ یہ جرأت اور ہمت تھی۔ کہتے ہیں رستم ایک بار کسی پہلوان سے شکست کھا کر نیچے گر پڑا۔ مگر اس کی بہادری اور ہمت کا رعب مشہور تھا تو اس نے سوچا کہ آؤ ہمت کر کے چھوٹ جاؤں۔ چنانچہ جب کہ دشمن اس کی پیٹھ پر سوار تھا اور گردن دبائے بیٹھا تھا اس نے جرأت کر کے اسے زور کی آواز سے