انوارالعلوم (جلد 12) — Page 559
انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۵۹ مستورات سے خطاب ڈرایا کہ رستم آگیا۔ رستم آگیا تو دشمن یہ نام سن کر سم گیا اور بھاگ گیا۔ اپنے نام کی آڑ لے کر رستم زنده و سلامت رہ گیا۔ تو جرات اور ہمت کے بغیر بھی انسان ناکام رہتا ہے۔ پھر انکسار اور تواضع ہے۔ ہمارے ملک میں تواضع بہت اچھا لفظ رائج ہے مگر اس کے معنی کم لوگ جانتے ہیں۔ اگر کوئی کسی کو اچھی طرح روٹی کھلا دے تو کہتے ہیں بھئی بڑی تواضع کی۔ یا کوئی حاکم تھا نہ دار کسی گاؤں میں چلا جائے تو اس کی خاطر تواضع کرنا بولتے ہیں مگر اصل ترجمہ تواضع کا نہیں جانتے۔ ذکر ہے کہ ایک بادشاہ بذاتِ خود بھیس بدل کر شہروں میں پھرا کرتا ایک دن کسی ایسے مقام پر جا مقام پر جانکلا جہاں ایک جمعدار پہرہ پر کھڑا تھا۔ اس نے بادشاہ کو بھی جو بھیں بدلے ہوئے تھا معمولی آدمی سمجھ کر نخوت اور غرور سے گزرنے نہ دیا اور کہا تو جانتا نہیں میرا پر چڑھو ۔ اس کہا ڈرا اور کیا ۔ ا عہدہ ہے ؟ بادشاہ نے پوچھا حضور! آپ کا کیا عہدہ ہے۔ کیا سپاہی؟ کہا ذرا اوپر چڑھ نے کہا کیا جمعدار ؟ کیا ہوں ۔ پھر سپاہی نے پوچھا تو کون ۔ بھا تو کون ہے تھانہ دار؟ بادشاہ نے بھی کہا ذرا اوپر بڑھو۔ پھر اس نے کہا اور اوپر بڑھو۔ سپاہی نے کہا ڈ پٹی؟ اس نے کہا ذرا اور اوپر بڑھو۔ اس طرح سوال و جواب سے بادشاہ کے عہدہ تک پہنچا۔ آخر سپاہی نے شرمندہ ہو کر معافی طلب کی تو بعض لوگ تواضع اور انکسار کرنا نہیں جانتے۔ کسی کو ذرا دنیاوی قدر مل جائے پھر نخوت اور تکبر سے بھر جاتے ہیں غرور سے پاؤں زمین پر رکھنا بھول جاتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ بڑے لوگ اگر انکسار کریں تو ان کی قدر افزائی ہوتی ہے اور عزت بڑھ بڑھتی ہے۔ دیکھو زار روس کی تباہی قیصر جرمنی کی شکست محض غرور اور نخوت اور انکسار نہ کرنے کے سبب سے ہوئی۔ مگر بادشاہ جارج پنجم کی بہت بڑی عزت ہے۔ رعیت کو اگر انکسار اور تواضع سے پیش آئیں تو ہزار گنا زیادہ عزت ہوتی ہے۔ شہنشاہ معظم کی رعایا ان کے انکسار کے طرز عمل سے قدر کرتی ہے۔ بڑے لوگ اگر انکسار کریں تو لوگ ان کو آنکھوں پر بٹھاتے، ان کی دل و جان سے خدمت کرتے ہیں۔ قوم کا امیر ان کا خادم ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عین اسلام پر عملدرآمد فرماتے ہوئے ایک فارسی شعر لکھا ہے۔ منه از بهرما کرسی که ماموریم خدمت را یعنی میرے لئے کرسی مت رکھو کہ میں ایک غریب اور عاجز انسان ہوں۔ تو بہت سے فوائد انکسار کرنے اور عاجز بننے میں ہوتے ہیں۔ یہ ایک نفس کی اصلاح اور اپنی قدر کروانے کا طریقہ ہے۔