انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 557

انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۵۷ مستورات سے خطاب سمجھا کہ ہماری خلعت کی بے حرمتی کی ہے۔ غلاموں کو حکم دیا فورا ان سے چھین لو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور دربار سے نکال دیا کہ جاؤ تم میں اعزاز شاہی کے شکریہ کی قابلیت نہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ بہت سخت حاکم اور ظالم گورنر تھے مگر پھر ایسے نرم دل اور عاجز بندے خدا کے ہو گئے کہ جن جن افراد رعیت کو ستایا تھا ان کے دروازے پر جا کر معافی طلب کی اور تقصیریں معاف کروائیں اور توبہ کی اور عبادت الہی میں مصروف ہوئے۔ آگے یہ اس خلعت کے واقعہ کا اثر تھا۔ آپ سمجھ گئے کہ اے مولا! جب انسان کے ایک خلعت کی تحقیر کر کے ایسی سزا پائی ہے تو تو نے جو نعمتیں بخشیں ان کا شکریہ ادا نہ کرنے پر تو بہت زیادہ مستحق سزا ہوں گا۔ چنانچہ پھر وہ شکریہ رب ادا کرنے سے اولیاء کرام میں سے ہو گئے۔ سو تم زیادہ شکر گزار بنو۔ رسول کریم میں ہم نے فرمایا ہے میں نے دوزخ میں زیادہ حصہ عورتوں کا دیکھا کیونکہ وہ ناشکری ہوتی ہیں۔ ه پھر عورتوں میں تعاون نہیں ہوتا اور یہ ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ یورپ کی عورتیں بھی تعاون نہیں کر سکتیں۔ میں یورپ میں گیا تو ایک عورت نے سوال کیا کہ کیا تمہارے ملک میں دروازے ہوتے ہیں (یورپ کے لوگ عموماً دروازے بند رکھتے ہیں) تو میں نے کہا دروازے ہوتے ہیں اور پھر کھلے رہتے ہیں تو اس عورت نے غلطی سے سمجھا کہ ہم پر اعتراض کیا ہے کہ یورپ کے لوگ مہمان نواز نہیں ہوتے اور ہم مہمان نواز ہیں۔ پھر شکر کے ساتھ آپس میں ہمدردی ہونی چاہئے۔ پھر عورتوں کو بہت زیادہ صبر کرنے کی بھی مشق چاہئے جو ان میں بہت کم ہے۔ صبر کا جذبہ مشق کرنے سے پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ملک کی عورتوں میں بہت ہی نایاب ہے کیونکہ ان کو عادت نہیں اور یہ محنت اور بہادری سے آتا ہے۔ یہاں تو اگر کوئی ذرا بھی تکلیف پہنچ جائے تو یہ رونے لگ جاتی ہیں حالانکہ ملکوں کے ساتھ جنگ ہو تو رونا کیسا؟ تحمل، برداشت اور صبر کی صحابیات میں بہت مشق تھی۔ ایک صحابیہ کا ذکر ہے کہ ان کا جنگ میں باپ بیٹا خاوند شهید ہوئے تو کچھ پرواہ نہ کی اور بار بار رسول اللہ سی ایم کی خیریت دریافت فرماتیں اور پھر حضور کی زندگی کی خوشخبری سن کر کہا رسول اللہ زندہ ہیں تو کچھ پرواہ نہیں۔ وہ اسی طرح ایک صحابیہ بی بی نے جنگ میں دشمنوں میں گھرے ہونے پر خیموں کے ڈنڈے اکھاڑ کر اتنی جنگ کی کہ دشمن کا ناطقہ بند کر دیا اور ان کو بھگا دیا کہ مگر ہمارے ملک کی عورتیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں