انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 556

انوارالعلوم جلد ۱۴ ۵۵۶ مستورات سے خطاب ہو گا کہ غیر مذہب کے اعتراضات کا کیا جواب ہو سکتا ہے۔ قرآن شریف ایک جامع کتاب ہے اس میں سے سب کچھ معلوم ہو سکتا ہے بشرطیکہ تدبر اور غور سے پڑھا جائے۔ دیکھو میں چونکہ صحت کا کمزور تھا اور شروع سے ہی مدرسہ میں میرا لحاظ کیا جاتا تھا اس لئے پرائمری سے انٹرنس تک میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا۔ مگر میں نے صرف قرآن مجید پڑھا۔ فلسفہ منطق وغیرہ میں نے نہیں پڑھا۔ مگر اب تک میں خدا کے فضل سے اور صرف قرآن مجید پڑھنے کے باعث ہر ایک بڑے انسان سے غیر مذاہب کے پیشواؤں سے بڑے بڑے لیکچراروں اور مدبروں سے گفتگو کرنے پر کبھی بھی نہیں جھجکا اور نہ کسی بڑے سے بڑے لیکچرار، پرنسپل بشپ تک نے میرے سامنے کبھی گفتگو کی جرات کی۔ میں یورپ میں گیا تو بھی انگریزی میں برابر مضمون بیان کرتا اور بڑے بڑے فلسفیوں کی مجالس میں برابر گفتگو کرتا اور دل میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی۔ مگر یہ میرے ذہن کی کوئی خوبی نہیں بلکہ میرے پاس قرآن کی تلوار ہے۔ پس اگر تم بھی قرآن، حدیث اور احمدیت کی کہ کی کتابیں پڑھو گی تو پتہ ۔ ز پتہ لگے گا کہ اسلام کیسا عمدہ مذہب ہے۔ کوئی عیسائی جرأت نہیں کر سکتا کہ احمدیوں کے سامنے آئے۔ تمہارے پاس قرآن کا ہتھیار ہونا چاہئے۔ دیکھو کوئی ڈاکٹر کامیاب نہیں ہو سکتا محض اپنی دواؤں یا عمدہ چمکدار اوزاروں سے بلکہ خود اس کی دماغی قابلیت ہونی چاہئے۔ اگر قابلیت نہ ہو تو اوزار یا دوائیں کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتیں۔ سے چند اخلاق کے ساتھ قابلیت پیدا ہوتی ہے۔ ایک شکر ہے۔ شکر گزاری کے ساتھ بہت نیک اخلاق پیدا ہوتے ہیں اور شکر گزاری کے ساتھ ترقی اور بہتری کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔ شکریہ ادا کرنے کا کا فعل قوم کے اندر محبت اور اتح اتحاد پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔ ج ا جب کسی نیک تحریک پر شکریہ ادا کر کے اپنا فرض ادا کرتے ہیں تو بہت سے نیک اخلاق پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ حضرت جنید ۳ یا شبلی فرمایا) رحمتہ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں۔ وہ پہلے کسی صوبہ کے گورنر تھے۔ ایسے نیک اور صالح بزرگ تھے کہ اولیاء کرام میں سے ہوئے۔ چنانچہ ان کے نام پر لوگ بچوں کے نام رکھتے ہیں (چنانچہ ہمارے قاضی اکمل صاحب کے بچوں کے نام جنید و شبلی ہیں) ان کا ذکر ہے کہ بادشاہ نے ان کو زمانہ گورنری میں ان کی حُسن خدمات کے صلہ میں بہت اعلیٰ درجہ کا خلعت بخشا۔ جب وہ خلعت پہن کر دربار میں بادشاہ کے حضور بیٹھے تو چھینک آگئی تو اپنی ناک اسی خلعت فاخرہ کے دامن سے پونچھ لی۔ بادشاہ نے دیکھ لیا اور