انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 520

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۲۰ سادہ اور وہ اسراف اور گھر کے اخراجات میں سادگی آپ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ از ن: غلو جو امراء ا امراء اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جائیں اور اس پر عمل کرنا تو الگ رہا یورپ کے بادشاہ شائد یہ بھی نہ مان سکیں کہ کوئی ایسا بادشاہ بھی تھا جسے دین کی بادشاہت بھی نصیب تھی اور دنیا کی حکومت بھی حاصل تھی مگر پھر بھی وہ اپنے اخراجات میں ایسا کفایت شعار اور سادہ تھا اور پھر بخیل نہیں بلکہ دنیا نے آج تک جس قدر سخی پیدا کئے ہیں ان سب سے بڑھ کر سخی تھا۔ جن کو اللہ تعالی مال و دولت دیتا ہے ان کا حال لوگوں سے پوشیدہ نہیں۔ امراء کی حالت غریب سے غریب ممالک میں بھی نسبتاً امراء کا گروہ موجود ہے۔ حتی کہ جنگلی قوموں اور وحشی قبیلوں میں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ امراء کا ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں میں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جو فرق نمایاں ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خصوصاً جن قوموں میں تمدن بھی ہو ان میں تو امراء کی زندگیاں ایسی پر عیش و عشرت ہوتی ہیں کہ ان کے اخراجات اپنی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ آنحضرت ملی تاہم جس قوم میں پیدا ہوئے وہ بھی فخر و خیلاء عرب سرداروں کی حالت میں خاص طور پر مشہور تھی اور حشم و خدم کو مایہ ناز جانتی تھی۔ عرب سردار باوجود ایک غیر آباد ملک کے باشندہ ہونے کے بیسیوں غلام رکھتے اور اپنے گھروں کی رونق کے بڑھانے کے عادی تھے۔ عرب کے ارد گرد دو قومیں ایسی عرب کی دو ہمسایہ قوموں کے بادشاہوں کی حالت بنتی تھیں کر وہ مجنوں اپنی کہ جو اپنی طاقت و جبروت کے لحاظ سے اس وقت کی کل معلومہ دنیا پر جاری تھیں۔ ایک طرف ایران اپنی مشرقی شان و شوکت کے ساتھ اپنے شاہانہ رُعب و داب کو گل ایشیاء پر قائم کئے ہوئے تھا تو دوسری طرف روم اپنے مغربی جاہ و جلال کے ساتھ اپنے حاکمانہ دست تصرف کو افریقہ اور یورپ پر پھیلائے ہوئے تھا۔ اور یہ دونوں ملک عیش و طرب میں اپنی حکومتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے تھے اور آسائش و آرام کے ایسے ایسے سامان پیدا ہو چکے تھے کہ بعض باتوں کو تو اب اس زمانہ میں بھی کہ آرام و آسائش کے سامانوں کی ترقی کمال درجہ کو پہنچ چکی ہے ، نگاہ حیرت