انوارالعلوم (جلد 12) — Page 521
انوار العلوم جلد ۱۴ ۵۲۱ انحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سادہ زندگی سے دیکھا جاتا ہے۔ دربار ایران میں شاہان ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور اس کے گھروں میں جو کچھ سامان طرب جمع کئے جاتے تھے اسے شاہ نامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں ان سامانوں کی تفصیلوں کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ دربار شاہی کے قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کے نقشہ کو زمردوں اور موتیوں کے صرف سے تیار کر کے میدان دربار کو شاہی باغوں کا مماثل بنا دیا جاتا تھا۔ ہزاروں خدام اور غلام شاه ایران کے ساتھ رہتے۔ اور ہر وقت عیش و عشرت کا بازار گرم رہتا تھا۔ رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان و شوکت کے شیدا نہ تھے تو مغربی آرائش و زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے۔ جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس کس طریق پر خرچ کیا ہے۔ پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدر حکومتوں کے درمیان واقعہ تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش و عشرت اسے نبھا رہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے ۔ آنحضرت مسلم کا بادشاہ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متاثر نہ ہونا اور روم و ایران کے دام تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے ثبت کو مار کر گرا دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاک بازوں کے سردار اور طہارت النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے ، نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ علاوہ اس کے آپ کے ارد گرد بادشاہوں کی زندگی کا نمونہ تھا وہ ایسا نہ گھر کا کام خود کرنا تھا کہ اس سے آپ وہ تاثرات حاصل کرتے جن کا اظہار آ۔ آپ کے اعمال کرتے ہیں۔ یہ بات بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپ تمام مخلوقات کے مرجع افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لئے دونوں حکومتوں کے آدمی آپ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ