انوارالعلوم (جلد 12) — Page 519
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۱۹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لئے تکلفات اور بناوٹ سے بچالیا۔ اس اُسوہ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔ جس فعل سے عظمتِ الہی اور تقوی میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آسکتا۔ حضرت ابو مسعود سے بن بلائے دعوت میں آنے والے کیلئے اجازت طلب کرنا الانصاری * روایت ہے۔ قَالَ كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ اَبُوْ شُعَيْبِ وَكَانَ لَهُ غُلامٌ لَمَّامٌ فَقَالَ أَصْنَعْ لِى طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ مَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهُذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ اَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكَته قَالَ بَلْ أَذِنْتُ لَہ سے آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا اس کا نام ابو شعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا۔ اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لئے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ میں تم کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کیلئے بلاؤں گا۔ پھر اس نے رسول الله علیم سے بھی کہلا بھیجا کہ حضور کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے۔ جب آپ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔ جب آپ اس کے گھر پر پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اب بتاؤ کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اس نے کہا یا رسول الله صلی السلام اجازت ہے ۔ تو آ۔ رت ہے۔ تو آپ اس کے سمیت اندر چلے گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے۔ شائد آپ کی جگہ کوئی اور ہے اور ہوتا تو چپ ہی رہتا مگر آپ دنیا کے لئے نمونہ تھے اس لئے آپ ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے ہمارے لئے مشکل ہوتی۔ آپ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ سادگی ہی انسان کے لئے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپ کی عزت تکلفات یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ اور نہ آپ ظاہری خاموشی یا وقار ۔ وقار سے بڑا بننا چاہتے تھے بلکہ آپ کی عزت خدا کی طرف سے تھی۔