انوارالعلوم (جلد 12) — Page 518
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۱۸ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سادہ زندگی ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے ۔ مگر آنحضرت میں باوجود اس کے کہ سب سے اتھی اور اورع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس آپ ان ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی۔ کے آ۔ ابی قمارہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ملی ہم نے بچہ کے رونے پر نماز میں جلدی فرمایا۔ اِنِّي لَا قَوْمٌ فِي الصَّلوةِ أُرِيدُ أَنْ أَطَوَلَ فِيهَا فَاسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَا تَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةً أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّه یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں، نماز مختصر کر دیتا ہوں۔ کس سادگی سے آنحضرت میں نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز من کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔ آج کل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شائد اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی نہیں رہی اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا۔ مگر آنحضرت مالی ام ان تکلفات سے سے بری تھے۔ آ۔ آپ کی عظمت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھی نہ کہا انہ کہ انسانوں نے آپ کو سے رض معزز بنایا تھا۔ یہ خیال رہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ أَنَّهُ سُئِلَ أَكَانَ النَّبِيُّ جوتیوں سمیت نماز پڑھنا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ لَ یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم میں یہ جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات بچتے تھے اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے اسلام سے بھی ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ مگر آنحضرت میں ہم جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آپ کا یہ طریق تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے۔ اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے پس جو جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں اور آپ نے ایسا کر کے