انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 465

انوار العلوم جلد ۱۲ ۴۶۵ فضائل القرآن (۴) نبوت کا سورج طلوع ہو کر نصف النہار پر آگیا ۔ تجھ پر وہ زمانہ بھی آیا۔ جب کہ تو دایہ کی گود میں تھا۔ پھر وہ زمانہ بھی آیا جو شباب کی تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے۔ وہ زمانہ بھی آیا جب جذبات سرد ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ زمانہ بھی آیا۔ جب کہ ہر طرف تیرے دشمن ہی دشمن تھے اور تیرے لئے دن بھی رات تھا۔ پھر وہ زمانہ آیا جب ساری قوم تجھے امین اور صادق کہتی تھی۔ ان سب زمانوں کو دیکھ لو۔ کیا کوئی وقت بھی ایسا آیا ہے جب خدا تعالیٰ نے تیری نصرت سے ہاتھ روکا ہو اس کی ناراضگی کسی رنگ میں تجھ پر ظاہر ہوئی ہو۔ بعض لوگ آرام اور عزت حاصل ہونے پر بگڑ جاتے ہیں۔ مگر تجھے جب امن ہوا۔ امیر بیوی ملی۔ تیری قوم نے تیری عزت کی۔ اس وقت بھی تو نے اچھے کام کئے۔ کام کئے۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ خدا نے اپ انے اپنا کلام تجھ پر اُتارا۔ تب بھی تو فرمانبردار رہا۔ گویا تیری ہر آنے والی گھڑی پہلی سے اعلیٰ اور بہتر رہی ہے۔ اور خدا کی تائید اور اس کی پسندیدگی بڑھتی چلی گئی۔ اب دیکھو رسول کریم میں ہم کی صداقت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے۔ عجیب بات ہے۔ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اس کی ساری زندگی بچپن سے لے کر آخر تک دیکھ لو۔ ایک لمحہ بھی اس کے لئے گمراہی کا نہیں آیا۔ اور خدا تعالیٰ نے اسے نہیں چھوڑا ڑا مگر نادان مخالف کہتے ہیں کہ آپ گمراہ تھے۔ اگر یہی گمراہی ہے تو ساری ہدایت اس پر قربان کی جاسکتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ۔ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى - تیرا ہر قدم ترقی کی طرف چلتا و کر گمراه راہ ہو گناہ ہوتا ہے۔ اگر نعوذ باللہ رسول کریم میں یہ بڑے ہو گیا۔ بچپن میں انسان بے گناہ گئے تو آخرت اولی سے بہتر نہ ہوئی۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری ہر اگلی گھڑی پہلے سے اچھی تھی۔ اور جب ہر اگلی گھڑی اچھی تھی تو ضلالت کہاں سے آگئی۔ ایسے انعام پھر فرماتا ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى - ۸۳ عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ اس کے متعلق ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ رسول کریم میں کی وہ کونسی خواہش تھی جس کے پورا ہونے سے آپ خوش ہو سکتے تھے۔ سوره کهف رکوع میں آتا ہے ۔ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِ هِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهُذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ۸۴، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کر رہا ہے۔ کہ لوگ ہمارے کلام پر ایمان کیوں نہیں لاتے ۔ یہ خواہش تھی رسول کریم میں یہ کی کہ آپ کی قوم خدا تعالیٰ کے کلام کو مان لے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ