انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 466

انوار العلوم جلد ۱۴ ۴۶۶ فضائل القرآن (۴) رَبُّكَ فَتَرْضَی تو نے دیکھا ہے کہ تیری ہر گھڑی کو ہم نے پہلی سے اچھا رکھا پھر کیا تمہاری یہ بات ہم رد کر دیں گے کہ تیری قوم ہدایت پا جائے ۔ ہمیں اس خواہش کا بھی علم ہے اور اسے بھی ہم پورا کر دیں گے۔ پھر فرمایا - اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيماً فَاوَى - ۸۵ اے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) تو یتیم تھا جب پیدا ہوا۔ اس تیمی کے وقت سے خدا نے تم کو اپنی گود میں لے لیا۔ گویا کوئی وقت خدا کی گود سے باہر آپ پر آیا ہی نہیں۔ اوی کے معنی ہیں قرب میں جگہ دی۔ فرمایا اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَأَؤی کیا خدا نے تم کو یتیم پا کر اپنے پاس جگہ نہیں دی ۔ وَوَجَدَكَ مَالاً مهدی اب اس کے معنی اگر یہ کئے جائیں کہ تجھے گمراہ پایا پھر ہدایت دی تو یہ معنی یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے۔ پس اس کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے تجھ میں محبت کی تڑپ دیکھی اور دنیا کی ہدایت کا سامان دے دیا۔ ان معنوں کی تائید ایک اور آیت سے بھی ہوتی ہے۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے تو انہیں گھر والوں نے کہا۔ تَا لِلَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلْلِكَ الْقَدِيمِ ۵۶، یوسف کی پرانی محبت تیرے دل سے نکلتی ہی نہیں۔ تو ابھی تک اسی پرانی محبت میں گرفتار ہے ۔ وہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کو گمراہ نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ یوسف علیہ السلام کی محبت میں کھویا ہوا سمجھتے تھے۔ اس لئے ملال کا لفظ انہوں نے شدت محبت کے متعلق استعمال کیا۔ پس وَوَجَدَكَ ضَالَا فَهَدَی کے یہ معنی ہیں کہ جب تو جو ان ہوا اور تیرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ خدا سے ملے بغیر میں آرام نہیں پاسکتا تو ہم نے تجھے فورا آواز را آواز دی که آجا میں موجود ہوں۔ اے محمد ) محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) تجھے معلوم ہے کہ جب ہم نے ہدایت دی تو وہ تیرے نفس کے لئے ہی نہ تھی بلکہ ساری دنیا کیلئے تھی ۔ پس لوگ تیرے پاس آئے اور مختلف طبائع کے لوگ آئے پھر ہم نے ان کی کفالت کیلئے قرآن کے ذریعہ تجھے وہ رزق دیا جو ہر فطرت کے انسان کیلئے کافی تھا۔ پس وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَاغْنى ۸۷ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تجھے کثیر العیال پایا اور اپنے فضل سے غنی کر دیا - فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ - وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَر ۸۸، پس اب تو بھی ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالنا کہ ان کی طاقتیں کچلی جائیں۔ نہ اتنی رعایت کرنا کہ بگڑ جائیں۔ اس آیت میں مالی کے مقابل پر سائل رکھا گیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہاں بھی مال سے مراد خدا کی محبت کے طلبگار کے ہیں۔ بہر حال فرمایا کہ جب کوئی تمہارے پاس ہدایت حاصل کرنے L