انوارالعلوم (جلد 12) — Page 423
انوا را العلوم جلد ۱۳ ۳۲۳ فضائل القرآن (۴) تعالی کی طرف سے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے سوا اور کوئی ایسی کتاب نہیں جس کے الفاظ سے نئے نئے مضامین نکلتے چلے آئیں۔ صرف قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے مطالب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ رات دن قرآن کریم کو پڑھو۔ قرآن کے حقائق کبھی ختم نہ ہونگے۔ اس کی حکمتیں نکلتی چلی آتی ہیں ں اور ہر لفظ پر حکمت معلوم ہوتا ہے۔ پرانے زمانہ کی کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک تھیلی ہوتی تھی جس میں سے ہر قسم کے کھانے نکلتے آتے تھے۔ مگر یہ تو وہمی اور خیالی بات تھی۔ قرآن کریم واقع میں ایسا خزانہ ہے جو جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کی جگہ دوسری کتب میں یہ بات نہیں۔ مثلاً مسیحی وغیرہ خود اقرار کرتے ہیں کہ اصل عبارتوں میں غلطیاں ہو گئی ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ پہلے انبیاء پر کلام اللہ نازل نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ یہ ہے کہ ان کا سب دین اور سب کتاب کلام اللہ میں محصور نہ ہوتے تھے۔ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی کتب پہلی کتب میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ کے بگڑنے کا موجب بھی میں ہوا کہ وہ کلام اللہ نہ تھیں۔ چونکہ ان میں خود انبیاء کی تشریحات اور رویا اور کشوف اور تفہیمات ان کے الفاظ میں ہوتے تھے اس لئے لوگوں کے دلوں میں حفاظت کا اس قدر گہرا خیال نہیں ہو سکتا تھا۔ جب حضرت مو موسی" کے صحابیوں نے دیکھا کہ حضرت موس موسی " پر وحی ہوئی جو انہوں نے لکھوا دی اور ساتھ ہی اپنا رویا اور کشف بھی لکھا دیا ۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھوا دیا کہ مجھے یہ خیال آیا جو الہامی خیال ہے تو ایسی باتوں سے ان کو جرات ہوئی کہ جو بات توریت سے انہیں سوجھتی اسے بھی اس میں داخل کر دیتے۔ اور وہ خیال کرتے کہ اگر ہم نے اپنی تفہیم بطور یادداشت لکھ دی تو کیا حرج ہوا اور چونکہ ہر شخص اپنی تقسیم کو صحیح سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ اسے خدائی امر ہی سمجھتے تھے۔ اس طرح وہ کتب بگڑ گئیں۔ حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو نبی کی تفہیم الہامی ہونے کی وجہ سے کتاب کا حصہ تھی۔ مگر ان کی نہیں۔ بلکہ بلکہ اگر کسی دوسرے کی الہامی تقسیم بھی ہو تب بھی ! وہ پہلے نبی کی تقسیم کی طرح اس کتاب کا حصہ نہیں کہلا سکتی۔ اس کے مقابلہ میں رسول کریم م کے صحابہ نے دیکھا کہ جب وہ آپ کے پاس آتے تو آپ فرماتے۔ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی ہے۔ صحابہ " کہتے لکھ لیں۔ آپ فرماتے لکھ لیا جائے۔ پھر فرماتے۔ کشف ہوا ہے یہ رویا تھی۔ آپ اس کا مفہوم بیان فرماتے اور کہتے یہ وحی میں نہ لکھا جائے۔ جب صحابہ دیکھتے کہ رسول کریم میں ہم خود بھی وحی میں کچھ نہیں بڑھا سکتے تو وہ سمجھتے کہ ہم ریز