انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 422

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۲۲ فضائل القرآن (۴) نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بوٹا آگ میں روشن ہے۔ اور وہ جل نہیں جاتا۔ A یہی حال حضرت عیسی اور باقی انبیاء کی کتابوں کا ہے۔ پس اگر ان کتب میں سے ہم ان زوائد کو نکال بھی دیں جو بعد میں لوگوں نے داخل کر دیئے ہیں تو بھی حضرت موسیٰ کی کتاب اس وقت جب کہ حضرت موسی نے ت موسی نے اسے ترتیب دیا۔ اور حضرت عیسی کی کتاب اس وقت جب کہ حضرت عیسی نے اسے بیان کیا۔ اور وید جب کہ وہ نازل ہوئے کلام اللہ نہ تھے۔ اگر دوسروں کی باتیں ان میں نہ تھیں تو رسولوں کی اپنی باتیں تو ضرور تھیں۔ غرض اپنی سلامتی کے زمانہ میں بھی وہ کلام اللہ نہیں تھیں۔ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ کیا فضیلت ہے۔ اگر حضرت موسیٰ چاہتے تو وہ بھی کلام اللہ کو الگ جمع کر سکتے تھے۔ اگر تورات سے حضرت موس موسیٰ کا کلام اور انجیل سے حضرت عیسیٰ کا کلام نکال لیا جائے تو کیا یہ کتابیں قرآن کریم کے برابر ہو جائیں گی؟ میں کہوں گا نہیں۔ کیونکہ اگر حضرت موسیٰ ایسا کر سکتے تو کیوں نہ کر دیتے۔ اگر حضرت موسیٰ کیلئے ممکن ہو تا کہ الفاظ والی وحی کو الگ کر کے کتاب بنا دیتے تو کیوں نہ کر دیتے؟ اسی طرح اگر حضرت عیسی کے لئے ممکن ہوتا تو وہ بھی کیوں نہ کر دیتے۔ یہ فضیلت صرف رسول کریم میں ہم کو ہی حاصل ہے کہ ساری کی ساری شریعت آپ کو وحی کے الفاظ میں عطا ہوئی۔ باقی اسب انبیاء کی کتب میں کچھ کلام الہی تھا۔ کچھ نظارے تھے اور کچھ مفہوم جسے انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔ اگر وہ نظاروں اور مفہوم کے حصہ کو علیحدہ کر دیتے تو ان کی کتابیں نامکمل ہو جاتیں کیونکہ ان کا سارا دین کلام اللہ میں محصور نہیں۔ کچھ رویا اور کشوف ہیں اور کچھ وحی خفی کے ذریعہ سے تھا۔ اگر وہ کلام اللہ کو الگ کرتے ۔ تو ان کا دین ناقص رہ جاتا۔ برخلاف اس کے قرآن کریم میں سب دین آگیا ہے۔ اور کلام اللہ میں ہی سب دین محصور ہے۔ پس قرآن کے سوا اور کسی نبی کی کتاب کا نام کلام اللہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ نام صرف قرآن کریم کا ہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اکمل بنانا تھا اسلام کو اکمل دین اور قرآن کو آخری کلام بنانا تھا اس لئے ضروری تھا کہ اسے ایسا محفوظ بنا نا کہ کوئی مطلب فوت نہ ہو۔ اور اس کی ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ کہ عالم الغیب خدا کے الفاظ میں سب کچھ بیان ہو۔ رویا اور کشوف میں جھگڑے اور اختلاف پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے شریعت اسلامیہ کو خدا تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں اتار کر اس کا نام کلام اللہ رکھا اور کہہ دیا کہ اس کے سب الفاظ خدا