انوارالعلوم (جلد 12) — Page 424
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۴۴ فضائل القرآن (۴) کس طرح اس میں کچھ داخل کر سکتے ہیں۔ رسول کریم میں اپنی طرف سے تو الگ رہا خدا تعالٰی کی دوسری وحی کو جو رویا اور کشف کی شکل میں ہوتی یا جس کے ذریعہ کوئی مفہوم دل میں ڈالا جاتا وہ بھی اس میں شامل نہ کرتے تو ہم کس طرح اس وحی میں کچھ شامل کر سکتے ہیں۔ لیکن پہلے انبیاء چونکہ اپنی تشریحات رویا ، کشوف اور تفہیمات اپنے الفاظ میں درج کرتے تھے اس لئے ان کے پیروؤں کو اپنی تفہیمات درج کر دینے کی بھی جرأت ہو گئی۔ محققین بائیبل کا بھی یہی خیال ہے کہ صحف قدیمہ میں جو اضافہ ہوا۔ وہ اس طرح ہوا کہ جو بات کسی کو سوجھی وہ اس نے اس میں لکھ دی۔ لیکن قرآن کریم چونکہ خالص کلام الله ہے۔ رسول کریم میم اپنے دوسرے الہامات یا کشوف یا رویا یا تفہیم اس میں داخل ہی نہ کرتے تھے۔ جس کا اثر صحابہ پر گرا پڑا۔ اور وہ محسوس کرتے تھے۔ کہ اس کتاب میں کوئی اور بات نہیں ہونی چاہئے ۔ حتی کہ طرزِ تحریر اور وقف تک کو انہوں نے محفوظ رکھا۔ اور اس طرح بوجہ کلام اللہ ہونے کے قرآن کریم ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔ یہ امر کہ قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا اثر اس کے تبدیل نہ ہونے پر خاص طور پر پڑا ہے مخالفوں تک نے تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ سرولیم میور لکھتا ہے۔ A similar guarantee existed in the feelings of the people at large, in whose soul no principle was more deeply rooted than an awful reverence for the supposed word of God۔ یعنی قرآن کریم کے محفوظ رہنے کی یہ بھی گارنٹی ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں یہ بات نقش تھی کہ قرآن کا ہر شوشہ اور ہر لفظ خدا کی طرف سے ہے۔ دوسرا فائدہ کلام اللہ کے اس طرح جمع کرنے کا یہ ہوا کہ اس میں تاریخ اور تفہیم آہی نہیں سکتی۔ مثلاً قرآن میں یہ نہیں لکھا۔ کہ میں فلاں جگہ گیا اور وہاں یہ الہام ہوا۔ بلکہ اس کی عبارت اس طرح چلتی ہے کہ ہر لفظ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اس لئے بندہ اس میں کوئی اور کلام داخل ہی نہیں کر سکتا۔ اور اگر کرے تو بالکل ہے جو ڑ معلوم ہو گا۔ لیکن پہلی کتب میں چونکہ تفہیم بھی درج تھی اس لئے کسی کا تفہیم کو درج کرنا غلطی کو ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا۔