انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xliii of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xliii

انوار العلوم جلد ۱۳ تعارف کتب سر پھٹول شروع ہو جائے گی ۔ اس غرض کیلئے لوگوں نے دنیا میں کئی نظام جاری کئے ہیں ۔ تمدن کے دوام کیلئے مرد اور عورت ، میاں بیوی کی صورت میں اکٹھے رہتے ہیں اور وہ آئندہ نسل کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں اس طرح خاندان وجود میں آتا ہے پھر کئی خاندان ایک محلے اور شہر میں رہتے ہیں۔ ان سب کے باہمی تعلقات کو نظام میں لانے کیلئے قوانین کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر ان قوانین پر عمل کرانے کیلئے حکومت یا بادشاہ کا ہونا ضروری ہے تا کہ وہ اپنے افسروں کے ذریعہ لوگوں سے ان قوانین کی پابندی کرائے ۔ حضور فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمدن کی بنیاد محکم اصول پر رکھی ہے کیونکہ آپ نے الہام الہی کو تمدن کی بنیاد قرار دیا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین قابل اعتماد نہیں ہو سکتے کیونکہ اس میں جنبہ داری ، دوستی اور دشمنی کا احتمال ہو سکتا ہے۔ اس لئے تمدنی قوانین اذات کی طرف سے ہونے چاہئیں ۔ جس کی نہ کسی سے رشتہ داری ہے اور نہ کسی سے دشمنی ۔ اس اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔ پس پہلی بنیاد جو تمدن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی وہ یہ تھی کہ تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے و الا بعض کو شکوہ رہے گا کہ بعض کی رعا : ل رعایت کی گئی ہے۔ دنیا میں جو قوانین لوگ بناتے ہیں اُن کے متعلق تو خیال ہو سکتا ہے کہ بنانے والے کو اس کا حق بھی تھا یا نہیں لیکن خدا تعالی کے متعلق اس قسم کا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ یہ قانون فی الواقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ اسلام نے جملہ تمدنی امور کے متعلق ایسے قوانین بنائے ہیں کہ ان میں کوئی رخنہ یا نقص نہیں نکالا جا سکتا اور ایسی تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کا باہم مل کر بیٹھنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس کے بعد حضور نے تمدن کی پہلی بنیاد یعنی میاں بیوی کے تعلقات کے بارہ میں اسلام کی تعلیم تفصیل سے بیان کر کے ثابت کیا کہ یہی تعلیم اور اصول تمدن کے لحاظ سے برتر اور اعلیٰ ہیں ۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلی شان کو دنیا میں پیش کر سکیں تا وہ لوگ بھی جو اس وقت دور ہیں قریب آ جائیں اور ساری دنیا اس اخوت میں پروئی جائے جس کیلئے خدا تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے اور وہ لڑائی جھگڑے دور ہو جائیں