انوارالعلوم (جلد 12) — Page xliv
انوار العلوم چند ۱۲ ۳۵ تعارف کتب جنہوں نے ایک آدم کی اولاد کو کئی کیمپوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ (۲۹) افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۳۲ء ۲۶ دسمبر ۱۹۳۲ ء جلسه سالا ۔ سالانہ کا افتتاح کرتے۔ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اتحا المسیح الثانی نے فرمایا کہ بہترین افتتاحیہ سورۃ فاتحہ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام اس سے شروع ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ نے خود اس سورۃ کا نام فاتحہ رکھا ہے۔ یہ ایک جامع دعا ہے۔ فرمایا کہ میں اسی سورۃ سے آج اس جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں ۔ اس سورۃ میں جو ضروری ہدایات ہمیں دی گئی ہیں خدا تعالیٰ ہمیں ان کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ حضور نے جلسہ سالانہ کی اہمیت اور اس میں شامل ہونے والوں کیلئے مقدّر برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔ تمہارے آپ لوگوں میں میں سے کوئی فرد یہ خیال نہ کرے فرد یہ خیال نہ کرے کہ یہاں آنا معمولی بات ہے اور یہ مجلس دنیا کی مجالس کی طرح معمولی مجلس ہے کیونکہ یہ خیال کرنے والا شخص خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان نہیں رکھتا اور وہ مومن نہیں ہو سکتا جو یہ یقین نہ رکھے کہ ہم یہاں نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کیلئے جمع ہوئے ہیں ۔ یاد رکھو تم بیج ہو جس سے ایسا عظیم الشان درخت اُگنے والا ہے جس کے سایہ میں تمام دنیا آرام پائے گی ۔ رے قلوب وہ زمین ہے جس سے خدا تعالیٰ کی معرفت کا پودا پھوٹنے والا ہے۔ اگر دنیا یہ بات نہیں دیکھ سکتی تو وہ اندھی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کے وعدوں کو نہیں سنتی تو بہری ہے۔ مگر تم نے خدا تعالیٰ کے وعدوں کو سنا اور ان کو پورے ہوتے دیکھا۔ تم میں سے ہر فرد جس نے خدا کے مسیح کے ہاتھ پر بیعت کی خواہ وہ براہ راست کی خواہ خلفاء کے ذریعہ وہ آدم ہے جس سے آئندہ نئی نسلیں چلیں گی ۔ تم خدا کی وہ خاص زمین ہو جس پر اس کی رحمت کی بارش برسے گی۔ تمہیں خدا تعالیٰ وہ درخت بنائے گا جس کے سایہ میں ہر سعید بیٹھے گا اور جو تم کو چھوڑے گا وہ نہ دنیا میں آرام پائے گا نہ آخرت میں ۔ پس تمہارا کام معمولی کام نہیں ۔ تم اللہ تعالی پر توکل رکھ کر اور دعا کر کے شروع کرو۔