انوارالعلوم (جلد 12) — Page xlii
انوار العلوم جلد ۱۳ ٣٣ تعارف کتب بارہ میں ایک مدلل مضمون تحریر فرمایا ۔ آپ نے لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ رحمۃ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام دنیا کیلئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لئے آپ نے ہمارے لئے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے اچھا اور اعلیٰ ہے اور اس نمونہ کی ہمیں نقل کرنی چاہئے ۔ حضور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تکلف اور بناوٹ سے پاک تھی ۔ آپ نے نہایت سادہ اور صاف زندگی بہ زندگی بسر کی۔ اس کے ثبوت کے طور پر احادیث سے واقعات درج فرمانے کے بعد حضور فرماتے ہیں :۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپ اپنے خالی اوقات میں خود اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے ۔ اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے ۔ کیا بے نظیر نمونہ ہے۔ کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کیلئے ایک نوکر بھی نہ ہو اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہوگا کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔ کئی (۲۸) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی ۶ نومبر ۱۹۳۲ء کو قادیان میں سیرۃ النبی کا جلسہ ہوا۔ اس میں حضور نے اسلامی تمدن پر ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی ۔ تمدن کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ تمدن کے معنی مدنیت ، شہریت اور چند آدمیوں کے مل کر رہنے کے ہیں ۔ جب کچھ آدمی ایک جگہ اکٹھے رہیں تو کئی قسم کی دقتیں پیش آ سکتی ہیں کیونکہ ہر شخص کے خیالات اور خواہشیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے اکٹھے مل کر رہنے کیلئے کچھ اصول مقرر کر کے ان پر چلنا ہوگا ورنہ ایک دوسرے سے اختلاف اور XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX