انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxviii of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxxviii

انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۹ تعارف کتب مضمون تحریر فرمایا۔ ابتداء میں آپ فرماتے ہیں :۔ میں ان دونوں گروہوں کو نیک نیت اور مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھتا ہوں لیکن میرے نزدیک یہ دونوں گروہ غلطی پر ہیں اور اس نازک موقع پر ہمیں اس سے زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہے جس قدر کہ اس وقت مسلمان کر رہے ہیں ہمیں اس امر کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کی تاریخ قریب میں مسلمانوں کے حقوق طے کرنے کا موقع دوبارہ نہیں آئے گا اور یہ کہ اگر ہم آج غلطی کر بیٹھے تو ہمیں اور ہماری اولا دوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ حضور نے مسلمانوں کو خبر دار کیا کہ ہر موقع پر بائیکاٹ کا حربہ درست نہیں ہوتا ۔ ہمیں یہ دیکھنا پر چاہئے کہ کسی طریق سے ہم اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں ۔ آپ نے مطالبہ حقوق کے دو طریق بیان فرمائے ۔ ا۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد وائسرائے ہند سے ملاقات کر کے اپنا مطالبہ پیش کرے اور کہے کہ جب تک فرقہ وارانہ نیابت کے بارہ میں حکومت فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک دیگر مسائل کا فیصلہ ملتوی رکھا جائے ۔ ۲۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس کی سب کمیٹی کے مسلمان ممبر ہی اس مطالبہ کو پیش کر دیں ۔ حضور کا یہ مشورہ ایسا صائب تھا کہ اکثر مسلمان زعماء نے اس سے اتفاق کیا ۔ چنانچہ محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جو اس سب کمیٹی کے ممبر تھے اجلاس میں یہی موقف اختیار کیا اور وائسرائے صاحب نے اجلاس ملتوی کر دیا اور عملاً مشاورتی کمیٹی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس طرح مسلمانوں کا مقصد بھی پورا ہو گیا اور وہ بائیکاٹ کی بدنامی سے بھی بچ گئے ۔ (۲۴) ندائے ایمان نمبر ۳ تبلیغ کی اہمیت کے پیش نظر حضرت خلیفۃالمسیح الثانی جماعت کو اس کام کی طرف ہمیشہ توجہ دلاتے رہے ۔ ۱۹۳۰ء میں حضور نے پھر یہ تحریک فرمائی کہ اس سال ہر احمدی اپنے پایہ کا ایک نیا