انوارالعلوم (جلد 12) — Page xxxvii
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۸ تعارف کتب اللہ تعالیٰ نے اپنے صبح سے وعدہ کیا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ اس لئے انصار الله یا درکھیں کہ یہ کام ضرور ہو کر رہے گا ۔ مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں ۔ آج نہیں تو کل لوگ ضرور توجہ کریں گے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلسل تبلیغ کرتے جائیں اور لوگوں کی خیر خواہی دل میں رکھ کر یہ کام کریں۔ اس سلسلہ میں احباب کو نصیحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔ ” جب کوئی شخص تبلیغ کیلئے جائے تو چاہئے کہ اس کے دل میں رقت ہو کیونکہ دل محبت سے نرم ہوتے ہیں۔ اپنے دلوں میں محبت پیدا کرو ۔ جو انسان خالی فلسفہ اور دلیل سے کام لیتا ہے وہ ناکام رہتا ہے۔ دنیا محبت اور اخلاص سے جیتی جاتی ہے ۔ پس جن لوگوں میں تبلیغ کیلئے جاؤ ان کے متعلق دل میں یہ محسوس کرو کہ یہ ہمارے بچے یا بھائی ہیں اور مہلک مرض میں مبتلاء ہیں ۔ کسی عزیز کے خطرناک طور پر مریض ہونے کے وقت جو رقت دل میں ہوتی ہے چاہئے وہی دردان کے لئے بھی ہو تب فائدہ ہو سکتا ہے ورنہ خالی دلیلیں کچھ نہیں کر سکتیں“۔ (۲۳) راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس اور مسلمان ۱۹۳۰ء میں وزیر اعظم برطانیہ نے ہندوستان کے آئینی مستقبل پر غور و فکر کیلئے لندن میں ۱۹۳۰ء وزیراع ایک گول میز کانفرنس بلائی جس میں ہندوستان اور انگلستان کے عمائدین شامل ہوئے ۔ اس اجلاس کے بعد گول میز کانفرنس کے کام کو ہندوستان میں جاری رکھنے کیلئے ایک مشاورتی کمیٹی وائسرائے ہند لارڈ ولنگڈن کی صدارت میں قائم کی گئی۔ اس میں اساسی حقوق اور فرقہ وارانہ مسائل وغیرہ اہم امور زیر غور تھے ۔ اس موقع پر مسلمان دوحصوں میں بٹ گئے ۔ ایک طبقہ کا خیال تھا کہ جب تک حکومت برطانیہ فرقہ وارانہ نیابت کے متعلق اپنا فیصلہ صادر نہ کرے مسلمان نمائندے مشاورتی کمیٹی میں شامل نہ ہوں ۔ دوسروں کی رائے یہ تھی کہ کمیٹی میں شامل ہو کر اپنے حقوق حاصل کرنے کی تگ و دو کرنا بہتر ہوگا ۔ ان حالات میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے یہ مفصل اور مدلل