انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxvi of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxxvi

انوار العلوم جلد ۱۲ ۔۔ ۲۷ تعارف کتب میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں استعارہ سمجھوں ۔ پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کر دوں تو وہ بیشک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اُسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔ فضائل القرآن کے سلسلہ میں حضور نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۱ء کو اپنی اس چوتھی تقریر میں کتب سابقہ پر قرآن کریم کی فضیلت کے بارہ میں آٹھویں دلیل شرح وبسط سے بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہر کلام جو نازل ہوتا ہے اس کی عظمت اور فضیلت کلام لانے والے کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے کیونکہ پیغامبر پیغام کی حیثیت سے بھیجے جاتے ہیں۔ پس کتاب کی افضیلت پر بحث کرتے ہوئے ہمیں کتاب لانے والے کے اخلاق، کردار اور مقام کی افضلیت پر بھی بحث کرنی ہوگی ۔ اس نقطہ نظر سے جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور زندگی پر نگاہ کرتے ہیں تو وہ منفرہ اور عظیم الشان نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ کی امانت ، صداقت، پاکیزگی گی اور طہارت کے آپ کے مخالف بھی قائل تھے۔ ، اس کے بعد حضور نے بعض مخالفین اسلام کے اُن اعتراضات کا ذکر کیا ہے جو وہ آپ کے بارہ میں کرتے ہیں۔ حضور نے ان اعتراضات کے مفصل اور مسکت جواب دیتے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بیمثال اور آپ کی شخصیت عظیم الشان ہے۔ آپ نبیوں کے سردار ہیں اس لئے آپ پر نازل ہونے والا کلام بھی سب سے افضل ہے۔ (۲۲) احمدیت کی کامیابی پر یقین رکھو اور محبت و اخلاص سے دلوں کو فتح کرو نظارت دعوة وتبليغ قادیان کی طرف سے ۲۹ دسمبر ۱۹۳۱ء کو مسجد اقصیٰ میں ایک تبلیغی کا نفرنس منعقد کی گئی جس میں جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے مختلف جماعتوں کے انصار اللہ خاص طور پر شامل ہوئے ۔ اس اجتماع میں حضور نے تبلیغ کی اہمیت کے بارہ میں مختصر خطاب فرمایا۔ آپ نے کہا کہ XXXXXXXXXXXXXXXXXX